برطانیہ کے خارجہ سیکریٹری، ڈیوڈ لیمی نے اسرائیل کی جانب سے دو برطانوی پارلیمنٹیرینز کو ملک میں داخل ہونے سے روکنے اور حراست میں لینے کو “ناقابلِ قبول” قرار دیا ہے۔ اس واقعے نے برطانیہ میں شدید تشویش کو جنم دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب برطانوی حکومت کی توجہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی، خونریزی کے خاتمے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر مرکوز ہے۔
BulletsIn
-
برطانیہ کے دو قانون ساز، یوان یانگ اور ابتسام محمد، اسرائیل جانے والے پارلیمانی وفد کا حصہ تھے۔
-
دونوں اراکین کو اسرائیلی حکام نے ملک میں داخلے سے روک دیا اور ملک بدر کر دیا۔
-
برطانیہ کے خارجہ سیکریٹری ڈیوڈ لیمی نے اس اقدام کو “ناقابلِ قبول” اور “گہری تشویش” کا باعث قرار دیا۔
-
لیمی کے مطابق یہ رویہ برطانوی پارلیمنٹیرینز کے ساتھ سلوک کرنے کا مناسب طریقہ نہیں ہے۔
-
برطانیہ نے اس معاملے پر اسرائیلی حکام سے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔
-
برطانوی حکومت دونوں اراکین پارلیمنٹ سے مسلسل رابطے میں ہے اور ان سے اظہارِ یکجہتی کر رہی ہے۔
-
برطانیہ کی توجہ جنگ بندی کے قیام اور غزہ میں خونریزی روکنے پر مرکوز ہے۔
-
اسرائیل نے حالیہ دنوں میں حماس کے ساتھ مختصر جنگ بندی کے بعد دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کی ہیں۔
-
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں مزاحمت کاروں کو یرغمالیوں کی رہائی پر مجبور کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
-
غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے دباؤ میں اضافہ، خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔
