تل ابیب،07فروری(ہ س)۔
اسرائیل نے ایک بار پھر ایران پر فلسطینی تنظیم حماس اور دوسرے گروپوں کی مالی اور عسکری مدد کا الزام عاید کیا ہے۔یہ الزام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ پانچویں مہینے میں داخل ہونے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ا اسرائیلی فوج نے ایران اور غزہ کی پٹی میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ یحییٰ السنوار کے درمیان براہ راست روابط کا پتا چلانے کا دعویٰ کیا ہے۔اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرعی نے منگل کی شام ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر شائع ایک بیان میں کہا کہ ہم اپنی افواج کو ملنے والی انٹیلی جنس معلومات کا کچھ حصہ شائع کرتے ہیں۔ یہ انٹیلی جنس معلومات ایران اور حماس کے درمیان بالعموم اور ایران اور یحییٰ السنوار کے درمیان بالخصوص براہ راست تعلق کی نشاندہی کرتی ہیں۔
یروشلم پوسٹ کے مطابق ان دستاویزات کی تصاویرسے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی طرف سے السنوار کو فراہم کردہ کل رقم 154 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔اسرائیلی فوج کے مطابق دستاویزات، 2020 سے متعلق ہیں جن میں 2014 سے 2020 تک ایران سے حماس کو منتقل کیے گئے فنڈز کی تفصیل درج ہے۔اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ 2014ء، 2015ء، 2019ءاور 2020ءمیں السنوار کو ایران کی طرف سے بالترتیب 15 ملین ڈالر، 48 ملین ڈالر، 42 ملین ڈالر اور 12 ملین ڈالر کی خطیر رقم ملی تھی۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ اسرائیلی فوج کی طرف سے شائع کی گئی ایک ویڈیو میں کچھ الماریوں اور تھیلوں کا پتا چلایا جن میں حماس نےفنڈز محفوظ کر رکھے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ امریکی حکام نے طویل عرصہ قبل اعلان کیا تھا کہ حماس کو ایران سے ہتھیار، تربیت اور مالی مدد ملتی ہے۔پچھلے سال کے آخر میں ایک امریکی رپورٹ میں دونوں فریقوں (یعنی ایران اور حماس) کی طرف سے روایتی مالیاتی نگرانی سے بچنے کی کوششوں پر روشنی ڈالی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ حماس نے ایران سے رقم وصول کرنے اور منتقل کرنے کے لیے کرپٹو کرنسیوں کا سہارا لیا۔رپورٹ میں اس وقت مزید کہا گیا تھا کہ اس تبدیلی سے حماس اور اس سے منسلک گروہوں، جیسے اسلامی جہاد کو اسرائیل پر اکتوبر کے حملوں سے پہلے کے دو سالوں میں ایران سے بڑی رقم وصول کرنے کا موقع ملا۔اسرائیل کے نیشنل بیورو فار کامبیٹنگ ٹیررسٹ فنانسنگ (این بی سی ٹی ایف) نے 2021ءسے غزہ کی ایکسچینج کمپنیوں کے پاس حماس سے مبینہ روابط رکھنے والی کرپٹو کرنسیوں کو ضبط کرنے کے لیے 7 احکامات جاری کیے تھے۔
