جاپان کے نئے وزیر اعظم شیگیرو اشیبا نے حال ہی میں خطے میں جنگ کی بڑھتی ہوئی خطرات کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر ایران کے میزائل حملے کو ناقابل قبول قرار دیا اور اس کے ساتھ ہی کشیدگی کو کم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کے بیانات اس وقت سامنے آئے جب انہوں نے امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ فون کال کی، جس کے بعد انہوں نے اس موضوع پر مزید وضاحت کی۔
BulletsIn
- وزیر اعظم کی تقرری: شیگیرو اشیبا کی وزیرِ اعظم کے طور پر پارلیمنٹ میں تقرری ہوئی ہے۔
- ایران کے حملے کی مذمت: انہوں نے ایران کے اسرائیل پر حملے کو ناقابل قبول قرار دیا۔
- کشیدگی کم کرنے کا عزم: کشیدگی کو کم کرنے اور مکمل جنگ سے بچنے کے لیے امریکہ کے ساتھ تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
- علاقائی فوجی اتحاد کی حمایت: اشیبا نیٹو کی طرز پر باہمی دفاع کے لیے علاقائی فوجی اتحاد کے قیام کی حمایت کرتے ہیں۔
- امریکہ-جاپان دفاعی اتحاد: جاپان اور امریکہ کا دفاعی اتحاد ان کے پیشرو فومیو کشیدا کے دور میں مضبوط ہوا ہے۔
- دفاعی اخراجات میں اضافہ: کشیدا نے دفاعی اخراجات کو دوگنا کرنے کی کوشش کی تھی۔
- تعلقات کی بہتری: چین، روس اور شمالی کوریا کے حوالے سے تعلقات کی بہتری کی کوششیں جاری ہیں۔
- معلومات کا تبادلہ: اشیبا نے بائیڈن کو بتایا کہ وہ کشیدا کی پالیسی کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
- ہم خیال ممالک کا نیٹ ورک: جنوبی کوریا، آسٹریلیا، بھارت اور فلپائن کے ساتھ ہم خیال ممالک کا نیٹ ورک مضبوط کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
- قریبی تعاون پر اتفاق: دونوں رہنماو¿ں نے چین، شمالی کوریا کے ہتھیاروں کے پروگرام اور یوکرین کی جنگ پر قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
