یروشلم میں ایک حالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایران، حزب اللہ، حماس اور فلسطینی ریاست سے متعلق کئی اہم بیانات دیے۔ انہوں نے ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو خطے کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کسی بھی معاہدے میں ان صلاحیتوں کا خاتمہ لازمی قرار دیا۔ نیتن یاہو نے حزب اللہ کے خلاف ایک خفیہ آپریشن کا بھی انکشاف کیا جس میں مواصلاتی ڈیوائسز کو دھماکے سے اڑایا گیا۔ ساتھ ہی انہوں نے فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد کرتے ہوئے غزہ کی موجودہ صورت حال پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کے بیانات خطے میں جاری کشیدگی اور اسرائیل کی سیکیورٹی حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں۔
BulletsIn
-
نیتن یاہو نے کہا کہ ایک کامیاب معاہدہ وہ ہے جو ایران کی یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرے۔
-
حزب اللہ کے خلاف اسرائیل نے ایک خفیہ آپریشن میں تین پیجرز کو دھماکے سے اڑا دیا جو ایران بھیجے جانے تھے۔
-
نیتن یاہو کے مطابق یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب معلوم ہوا کہ حزب اللہ ان آلات کو ایران جانچ کے لیے بھیج رہا ہے۔
-
انہوں نے کہا کہ ان پیجرز کی جانچ کے لیے استعمال ہونے والے بمباری کے آلات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
-
نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ حزب اللہ اور حماس کے درمیان جاری جنگ اب لبنان تک پھیل چکی ہے۔
-
حماس کے 7 اکتوبر کے حملے پر حزب اللہ حیران رہ گئی تھی، اور اسرائیل نے دونوں تنظیموں کے مشترکہ منصوبے ناکام بنائے۔
-
اسرائیل نے سابق امریکی صدر بائیڈن کی انتظامیہ کی جانب سے غزہ جنگ پر دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ باج گزار ریاست نہیں۔
-
نیتن یاہو نے فلسطینی اتھارٹی کو غزہ کا کنٹرول دینے کی سخت مخالفت کی اور فلسطینی ریاست کو “مضحکہ خیز خیال” قرار دیا۔
-
انہوں نے کہا کہ امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ فلسطینیوں کا یہودی ریاست کو تسلیم نہ کرنا ہے۔
-
امریکہ اور ایران نے عمان میں حالیہ جوہری مذاکرات میں پیش رفت کا اعلان کیا ہے، تاہم کئی اختلافات اب بھی باقی ہیں۔
