برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے ایک اہم اعلان میں کہا کہ یورپی ممالک یوکرین کو روس سے بچانے کے لیے اقدامات کریں گے اور اگر ضرورت پڑی تو روس کے خلاف اتحاد بھی بنایا جائے گا۔ انہوں نے یہ بیان لندن میں 18 یورپی رہنماؤں کے اجلاس کے بعد دیا، جس میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی بھی شریک تھے۔ اسٹارمر نے یوکرین کی حمایت میں مختلف منصوبوں کا اعلان کیا اور کہا کہ اس وقت مزید بات چیت کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کرنے کا وقت ہے۔
BulletsIn
- روس-یوکرین جنگ پر بیان – کیئر اسٹارمر نے کہا کہ ہم تاریخ کے ایک نازک موڑ پر ہیں، یورپی ممالک یوکرین کی حمایت کریں گے۔
- اتحاد بنانے کا عندیہ – اگر ضرورت پڑی تو روس کے خلاف ایک مشترکہ اتحاد تشکیل دیا جائے گا۔
- 18 یورپی رہنماؤں کا اجلاس – لندن میں منعقدہ اجلاس میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بھی شرکت کی۔
- دیگر ممالک کی حمایت – اسٹارمر نے کہا کہ کئی ممالک برطانیہ اور فرانس کے ساتھ ہیں۔
- یوکرین میں فوجی تعیناتی – کیف اور ماسکو کے درمیان جنگ بندی کی صورت میں یوکرین میں فوج تعینات کی جا سکتی ہے۔
- برطانوی مالی امداد – یوکرین کو 5,000 فضائی دفاعی میزائل خریدنے کے لیے 1.6 بلین پاؤنڈ کی مالی مدد دی جائے گی۔
- امریکی صدر سے گفتگو – اسٹارمر نے ہفتے کی رات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات چیت کی۔
- کشیدگی پر تشویش – انہوں نے کیف اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کو یورپ کے لیے خطرہ قرار دیا۔
- فرانس اور دیگر ممالک کے ساتھ منصوبہ بندی – اسٹارمر نے کہا کہ وہ جنگ بندی کے لیے منصوبہ بنا رہے ہیں جو جلد امریکہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
- زیلنسکی کا برطانیہ دورہ – یوکرین کے صدر کو لندن کا اعلیٰ سطح کا دورہ کرایا گیا اور انہوں نے کنگ چارلس سے سینڈرنگھم اسٹیٹ میں ملاقات کی۔
