بنگلہ دیش کی حکومت نے حالیہ دنوں میں ایک اہم فیصلہ کیا ہے جس میں مختلف ممالک میں تعینات اپنے پانچ سفارت کاروں کو فوری طور پر ڈھاکہ واپس بلانے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا ہے جب بنگلہ دیش اور بھارت کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، خاص طور پر وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خلاف حالیہ واقعات کے تناظر میں۔ واپس بلائے گئے سفارت کاروں میں بھارت میں بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر مستفیض الرحمان بھی شامل ہیں، جو جلد ہی ریٹائر ہونے والے ہیں۔
BulletsIn
- بنگلہ دیش کی حکومت نے پانچ سفارت کاروں کو فوری طور پر واپس بلانے کا فیصلہ کیا۔
- واپس بلائے جانے والے سفارت کاروں میں بھارت میں بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر مستفیض الرحمان شامل ہیں۔
- مستفیض الرحمان کی ریٹائرمنٹ جلد ہونے والی ہے۔
- وزارت خارجہ کی جانب سے ان سفارت کاروں کی کارکردگی کو تسلی بخش نہیں سمجھا گیا۔
- دیگر واپس بلائے گئے سفارت کاروں میں نیویارک میں اقوام متحدہ کے نمائندے اور آسٹریلیا، بیلجیئم، اور پرتگال کے سفیر شامل ہیں۔
- مستفیض الرحمان نے جولائی 2022 میں بھارت میں ہائی کمشنر کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔
- انہیں بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرنے کا حامل سمجھا جاتا ہے۔
- حالیہ دنوں میں بنگلہ دیش اور بھارت کے تعلقات میں تلخی محسوس کی گئی ہے۔
- 5 اگست کو شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹنے کا واقعہ بھی تعلقات میں کشیدگی کا باعث ہے۔
- اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کا اہتمام کیا گیا، لیکن یہ ملاقات نہ ہوسکی۔
