غزہ میں جنگ بندی پر اتفاق رائے نہیں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکی قرارداد پر روس- چین کا ویٹو
واشنگٹن، 26 اکتوبر۔ غزہ کے معاملے پر بدھ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں جنگ بندی کے حوالے سے کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ اس معاملے پر امریکہ اور روس کی طرف سے دو الگ الگ تجاویز پیش کی گئیں لیکن دونوں کو مسترد کر دیا گیا۔ روس اور چین نے امریکی تجویز کے خلاف ویٹو کا استعمال کیا۔ روسی تجویز کو منظور ہونے کے لیے اتنے ووٹ نہیں ملے، اگر ایسا ہوتا تو امریکہ بھی اس کے خلاف ویٹو کا استعمال کرتا۔
دراصل غزہ میں اسرائیل کے جوابی حملے کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دونوں فریقوں کی مختلف آراء تھیں۔ سلامتی کونسل میں امریکہ کی طرف سے دی گئی قرارداد میں جنگ بندی نہیں بلکہ انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کی اپیل کی گئی تھی۔ قرارداد میں اسرائیل اور حماس کو غزہ پر تشدد کا ذمہ دار ٹھہرانے پر غور کرنے کا کہا گیا تھا۔
امریکہ، برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، فرانس، ایکواڈور، گبون، گھانا، جاپان، مالٹا اور البانیہ نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ برازیل اور موزمبیق نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
روس اور چین سمیت غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والی روس کی قرارداد کے حق میں چار ووٹ آئے۔ امریکہ اور برطانیہ نے روس کی تجویز کے خلاف ووٹ دیا جبکہ نو ارکان غیر حاضر رہے۔
اقوام متحدہ میں روس کے سفیر واسیلی نیبنزیا نے الزام لگایا کہ امریکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلوں کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے جنگ بندی نہ کرنے کی امریکی تجویز کی مذمت کی۔ جبکہ اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر گیلاڈ ایردان نے امریکہ طرف سے پیش کی گئی قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد ظالم دہشت گردوں کی مذمت کرتی ہے اور رکن ممالک کو دہشت گردی کے خلاف اپنے دفاع کا حق دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس طرح کا قتل عام کسی بھی ملک میں ہوتا تو وہ اسرائیل سے زیادہ طاقت کے ساتھ اس کا سامنا کرتے۔
