غزہ سے متصل امریکی عارضی بندرگاہ کے حوالے سے پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل کی نئی رپورٹ نے کئی اہم اور چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ یہ بندرگاہ مئی 2024 میں امریکی صدر جو بائیڈن کے اعلان کے بعد تعمیر کی گئی تھی تاکہ اہلِ غزہ کو امدادی سامان فراہم کیا جا سکے۔ تاہم اب اس منصوبے پر کئی سوالات اٹھنے لگے ہیں، خاص طور پر اس کے ممکنہ طور پر اسرائیلی فوجی آپریشنز میں استعمال ہونے کے الزامات کے بعد۔ رپورٹ میں فوجی زخمیوں کی اصل تعداد اور بندرگاہ کے استعمال پر روشنی ڈالی گئی ہے، جو امریکی پالیسی اور اس کے مقاصد پر شدید تنقید کا باعث بن رہی ہے۔
BulletsIn
-
پینٹاگون کی رپورٹ کے مطابق غزہ کے قریب امریکی عارضی بندرگاہ پر کام کے دوران 62 سے زائد امریکی فوجی زخمی ہوئے، جبکہ پہلے یہ تعداد بہت کم ظاہر کی گئی تھی۔
-
یہ بندرگاہ صدر جو بائیڈن کے مارچ 2024 میں کیے گئے اعلان کے بعد مئی میں مکمل کی گئی تھی اور اس پر تقریباً ایک ہزار امریکی فوجیوں نے کام کیا تھا۔
-
اس بندرگاہ کو اہلِ غزہ تک امدادی سامان پہنچانے کے لیے استعمال کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، کیونکہ اسرائیل نے غزہ میں اشیائے خور و نوش کی ناکہ بندی کر رکھی تھی۔
-
بعد ازاں نصیرات میں اسرائیلی آپریشن کے دوران یہ شک ظاہر ہوا کہ امدادی ٹرک اور کنٹینر دراصل اسرائیلی فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہوئے۔
-
امریکی بندرگاہ کا استعمال جنگی آپریشن کے دوران ہونے کی اطلاعات پر سوشل میڈیا پر امریکہ پر سخت تنقید کی گئی۔
-
امریکہ نے جنگی آپریشن کے کچھ دن بعد اعلان کیا کہ وہ بندرگاہ کو ختم کر رہا ہے، اور اس کی وجہ موسم کو قرار دیا۔
-
اس عارضی بندرگاہ کی تعمیر پر 230 ملین ڈالر لاگت آئی تھی اور اس کی لمبائی 1200 فٹ تھی۔
-
پینٹاگون کی رپورٹ میں کہا گیا کہ فوجیوں کو اس منصوبے کے لیے مناسب تربیت یا تیاری نہیں دی گئی تھی۔
-
امریکی کانگریس میں خاص طور پر ریپبلکن پارٹی کی طرف سے اس بندرگاہ کی تعمیر کو جوبائیڈن انتظامیہ کی سیاسی حکمت عملی قرار دیا گیا۔
-
رپورٹ ایسے وقت میں آئی ہے جب غزہ میں خوراک، پانی، ادویات کی شدید قلت جاری ہے، اور اسرائیل مزید تباہ کن کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے، جس سے صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ ہے۔
