غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری اور زمینی کارروائیاں مسلسل شدت اختیار کرتی جا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں انسانی جانوں کا بھاری نقصان ہو رہا ہے۔ گزشتہ رات سے لے کر آج صبح تک کی بمباری میں کم از کم 60 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیل کی اندھا دھند کارروائیوں کے باعث نہ صرف انسانی امداد کی فراہمی رکی ہوئی ہے بلکہ غزہ کو مکمل تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا گیا ہے۔ عالمی برادری، خاص طور پر کینیڈا، فرانس اور برطانیہ، نے اسرائیل پر دباؤ بڑھا دیا ہے کہ اگر حملے بند نہ کیے گئے تو سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
BulletsIn
-
آدھی رات سے صبح تک غزہ پر اسرائیلی بمباری سے کم از کم 60 فلسطینی ہلاک ہو گئے۔
-
اسرائیلی بمباری کے باعث انسانی امداد کی فراہمی مکمل طور پر روک دی گئی ہے۔
-
خان یونس کے جنوبی علاقے میں حملے سے قبل فلسطینیوں کو فرار ہونے کا حکم دیا گیا۔
-
کینیڈا، فرانس اور برطانیہ نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ اگر حملے نہ رکے تو سخت کارروائی ہوگی۔
-
22 ممالک نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ تک انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹ نہ بنے۔
-
اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر 10 فلسطینی گرفتار کیے، جن میں ایک 17 سالہ لڑکا بھی شامل ہے۔
-
بیت الحم اور الخدر میں چھاپوں کے دوران باپ بیٹا سمیت کئی افراد کو حراست میں لیا گیا۔
-
7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی جارحیت میں 53,486 فلسطینی مارے گئے اور 121,398 زخمی ہوئے۔
-
اقوام متحدہ کے مطابق غزہ اس وقت بدترین انسانی بحران سے دوچار ہے، جہاں نقل مکانی اور ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔
-
فرانسیسی وزیر خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے امدادی ناکہ بندی میں جزوی نرمی کو ناکافی قرار دیا اور مزید اقدامات کی دھمکی دی۔
