ڈھاکہ، 30 اگست (ہ س)۔
بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے علاقے کاکریل میں جمعہ کی شب دو جماعتوں کے حامیوں اور کارکنوں کے درمیان ہونے والے تشدد میں گونوادھیکار پریشد کے چیئرمین نورالحق شدید زخمی ہو گئے۔ ان کے علاوہ پولیس، فوج کے جوان اور دوسرے فریق کے لوگ بھی زخمی ہوئے ہیں۔ اس واقعے کے بعد کاکریل علاقے میں کشیدگی کے پیش نظر فوج اور پولیس کو تعینات کر دیا گیا ہے۔
پرتھم آلو اخبار کی خبر کے مطابق نورالحق کے علاج کے لیے ڈھاکہ میڈیکل کالج اسپتال میں اعلیٰ سطحی میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا گیا ہے۔ ہسپتال کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر جنرل محمد اسد الزماں نے ہفتے کے روز بتایا کہ نورالحق کے سر میں شدید چوٹ آئی ہے۔ اس کی ناک ٹوٹی ہوئی ہے۔ خون بہنے پر قابو پا لیا گیا ہے اور انہیں ہوش آیا ہے۔ کم از کم 48 گھنٹے گزر جانے تک اس کی تصدیق نہیں کی جا سکتی کہ وہ خطرے سے باہر ہیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ کاکریل میں قومی پارٹی کے دفتر کے سامنے تشدد شروع ہوا۔ حالات اس وقت بگڑ گئے جب گونو ادھیکار پریشد کے جلوس پر کچھ لوگوں نے پتھراو کیا۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ اس دوران نورالحق سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ پریشد نے الزام لگایا کہ جلوس پر جاتیہ پارٹی کے کارکنوں نے حملہ کیا۔ گونو ادھیکار پریشد کے جنرل سکریٹری راشد خان نے الزام لگایا ہے کہ پولیس اور فوج کے لاٹھی چارج میں ان کی پارٹی کے 100 سے زیادہ رہنما اور کارکن زخمی ہوئے ہیں۔ نور اور چھ دیگر کو ڈھاکہ میڈیکل کالج اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
دریں اثنا، انٹر سروسز پبلک ریلیشنز ڈائریکٹوریٹ (آئی ایس پی آر) نے ایک ریلیز میں کہا ہے کہ جھڑپ کے آغاز میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے دونوں فریقوں کو پرسکون رہنے کی تاکید کی تھی۔ دونوں فریقوں میں سے کسی نے بھی ان کی اپیل پر دھیان نہیں دیا۔ اس دوران سیکورٹی فورسز پر حملہ کیا گیا اور رات کو مشعل بردار جلوس نکال کر بدامنی کو ہوا دی گئی۔ کئی اداروں کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی۔ اس لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔ آئی ایس پی آر نے تصدیق کی کہ واقعے میں پانچ فوجی اہلکار بھی زخمی ہوئے۔
ڈھاکہ ٹریبیون اور ڈیلی سٹار نے اس واقعہ کے بارے میں ایک اپ ڈیٹ دیا ہے کہ گونو ادھیکار پریشد نے چیئرمین نور پر حملے کے خلاف آج ملک گیر (تمام 64 اضلاع) احتجاج شروع کر دیا ہے۔ کونسل نے ڈھاکہ میں پارٹی دفتر کے سامنے سہ پہر تین بجے ریلی کی کال دی ہے۔ پریشد لیڈر راشد خان نے کہا کہ عوامی لیگ کے دور میں بھی ہم پر اس طرح کا حملہ نہیں ہوا، عبوری حکومت جواب دے کہ نورالحق آئی سی یو میں کیوں ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم حکومت کو 24 گھنٹے کا الٹی میٹم دے رہے ہیں، اگر مقررہ وقت میں کوئی جواب نہیں آیا اور بعد میں کوئی ناخوشگوار واقعہ ہوا تو اس کی ذمہ دار عبوری حکومت ہوگی۔’
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے کارگذار صدر طارق رحمان نے عبوری حکومت سے گونو ادھیکار پریشد کے چیئرمین نورالحق پر حملے اورکاکریل میں ہونے والے واقعات کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ طارق نے ایک فیس بک پوسٹ پر لکھا، ہم جمہوری تبدیلی کے ایک انتہائی نازک مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ اس کا پہلا مرحلہ پارلیمانی انتخابات ہے۔ ہمیں اجتماعی طور پر اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ عدم استحکام کے واقعات کو پھیلا کر جمہوریت پٹری سے نہ اترے ۔ طارق نے کہا کہ اگر بنگلہ دیش کو آگے لے جانا ہے تو موبوکریسی کے خطرے سے چوکنا رہنا ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ
