کٹھمنڈو، 27 نومبر (ہ س)۔ موسم کا درجہ حرارت گرنے کے ساتھ ہی نیپال کے زلزلہ سے متاثرہ علاقوں جاجر کوٹ اور روکم ویسٹ میں کھلے آسمان تلے گزر بسر کرنے والے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ محض ایک ترپال کے سہارے رہنے والے ان ان زلزلہ زدگان کے لیے رات گزارنا مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
ان دو اضلاع میں سردی سے مرنے والوں کی تعداد 15 تک پہنچ گئی ہے۔ مرنے والوں میں زیادہ تر بزرگ اور حاملہ خواتین ہیں۔ سردی کی وجہ سے بزرگ افراد نمونیہ سے مر رہے ہیں جبکہ دیگر کئی بیماریاں دیگر لوگوں کی موت کا سبب بن رہی ہیں۔ وارڈ صدر تیج بہادر سنگھ نے نلگاڈ میونسپلٹی وارڈ نمبر 8 کی رہنے والی ایک حاملہ خاتون شرمیلا چادار کی کل رات سردی کی وجہ سے موت ہونے کی اطلاع دی ہے۔
اسی طرح اتوار کی صبح ایک نوزائیدہ بچہ مردہ پایا گیا۔ بھیری میونسپلٹی کے وارڈ نمبر 2 میں زلزلہ زدگان کے لیے بنائے گئے شیلٹر میں ایک ماہ کی نومولود نیروتا پون سردی کی وجہ سے دم توڑ گئی۔ جاجرکوٹ میں 3 نومبر کو آنے والے 6.4 شدت کے زلزلے جس کا مرکز جاجر کوٹ تھا، اس کی وجہ سے بے گھر ہوئے لوگ مسلسل سردی کی وجہ سے مر رہے ہیں ۔
جاجرکوٹ اور روکم مغربی دونوں پہاڑی علاقے ہیں، جہاں ستمبر سے اکتوبر تک شدید سردی شروع ہوتی ہے۔ اس وقت دونوں اضلاع کے بالائی علاقوں میں برف باری بھی شروع ہوگئی ہے۔ اس کی وجہ سے رات کے وقت درجہ حرارت 5 سے 10 ڈگری سیلسیس تک پہنچ جاتا ہے۔ سردی کی وجہ سے زلزلہ متاثرین کو کئی طرح کے صحت کے مسائل کا سامنا ہے۔
ہندوستھان سماچار
