کٹھمنڈو ، 14 دسمبر (ہ س)۔
نیپال کی طاقتور حکومت کی سب سے بڑی اتحادی نیپالی کانگریس کے درمیان تنازعہ بڑھتا جا رہا ہے۔ نیپالی کانگریس کے صدر شیربہادر دیوبا کو پارٹی پارلیمانی پارٹی لیڈر کے عہدے سے ہٹانے کی مہم تیز ہو گئی ہے۔ اس مہم کی قیادت پارٹی جنرل سکریٹری گگن تھاپا کررہے ہیں۔
پارٹی کے اپوزیشن دھڑے کی میٹنگ میں گگن تھاپا نے شیربہادر دیوبا کو پارلیمانی پارٹی لیڈر کے عہدے سے ہٹانے اور سینئر لیڈر شیکھر کوئرالا کو اس عہدے پر مقرر کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ تھاپا نے کہا کہ دیوبا کو پارلیمانی پارٹی لیڈر کے عہدے سے ہٹا دینا چاہیے اور حکمراں سی پی این (ایم سی) سے اتحاد توڑ دینا چاہیے۔ انہوں نے دیوبا پر اقتدار کے لیے کمیونسٹ پارٹیوں کے ساتھ مل کر پارٹی کو کمزور کرنے کا الزام لگایا ہے۔تھاپا نے الزام لگایا کہ دیوبا پوری پارٹی کے لیے کام کرنے کے بجائے چند ایک کے فائدے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ پارٹی کو کمزور ہونے سے بچانے اور ملک کو کمیونسٹ پارٹیوں کے چنگل سے نجات دلانے کے لیے ضروری ہے کہ دیوبا کو پارلیمانی پارٹی لیڈر کے عہدے سے ہٹایا جائے۔نیپالی کانگریس کے جنرل سکریٹری تھاپا نے کہا کہ سب سے بڑی پارٹی ہونے کے باوجود تیسری بڑی پارٹی یعنی سی پی این (ایم سی) کو اقتدار کی قیادت دینا بدقسمتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹ کو اپنے ایجنڈے پر لانے کے بجائے ملک کی واحد اور سب سے پرانی جمہوری پارٹی سی پی این (ایم سی) کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ نیپالی کانگریس کے گزشتہ کنونشن میں شیکھر کوئرالا پارٹی صدر کے لیے شیربہادر دیوبا کے سامنے امیدوار تھے ، جب کہ پارلیمانی پارٹی کے لیڈر کے عہدے کے انتخاب میں جنرل سکریٹری گگن تھاپا خود امیدوار تھے۔ دیوبا نے پارلیمانی پارٹی لیڈر کے عہدے کے انتخاب میں کوئرالا کو شکست دی تھی۔ اب پارٹی کے اندر کی دھڑے بندی ایک بار پھر کھل کر سامنے آگئی ہے۔ نیپالی کانگریس سی پی این (ایم سی) کی زیرقیادت حکمران اتحاد کا ایک بڑا حصہ ہے۔ ملک کے 275 رکنی ایوان نمائندگان میں نیپالی کانگریس کے 88 ارکان ہیں، سی پی این (ایم سی) کے 30 اور سی پی این (یو ایم ایل) کے 78 ارکان ہیں۔
ہندوستھان سماچارمحمدخان
