دنیا کے کئی ممالک میں تنازعات اور جنگ پر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل گوٹیرس نے تشویش کا اظہار کیا
جنیوا، 27 فروری۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس نے غزہ، یوکرین، کانگو، میانمار اور سوڈان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں جاری تنازعات، جنگ اور تشدد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ گوٹیرس نے کہا ہے کہ بہت سے ممالک ان جنگوں اور تشدد میں بالواسطہ اور بالواسطہ طور پر ملوث ہیں۔ اس لیے عالمی سلامتی کی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ کمزور ہوتی جا رہی ہے۔
ایسے میں اقوام متحدہ کے سکرٹری جنرل نے پوری دنیا میں انسانی حقوق اور امن کے احترام کی ضرورت کا اظہار کیا ہے۔ گوٹیرس نے یہ بات اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے افتتاحی اجلاس میں کہی۔ گوٹیرس نے غزہ اور یوکرین کے حوالے سے سلامتی کونسل میں عدم فیصلہ کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیا۔
گوٹیرس نے کہا کہ دونوں جگہوں پر صورتحال دھماکہ خیز ہے لیکن سلامتی کونسل وہاں کچھ نہیں کر پا رہی ہے۔ وہاں کے رکن ممالک کے مفادات کا ٹکراو زمینی صورتحال کو مزید خراب کر رہا ہے۔ گوٹیرس نے کہا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ مختلف ایشوز پر تصادم سے غیر یقینی کی صورتحال بڑھ رہی ہے۔ اس صورتحال میں انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے جس سے امن کو خطرہ لاحق ہو رہا ہے۔ جس کی وجہ سے دنیا کے غریب ترین ممالک کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے اور ماحولیات کی بہتری کے لیے کیے جانے والے اقدامات متاثر ہو رہے ہیں۔
اس دوران گوٹیرس نے غزہ میں انسانی حقوق کی صورتحال پر خصوصی طور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر انسانی حقوق کونسل کے سربراہ واکر ترک نے اقوام متحدہ اور اس کے اداروں کے کام کی اہمیت کو کم کرنے اور اہمیت کو کم کرنے والی کوششوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ روشنی کی کرن کی مانند ہے جو اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہے۔
