نیویارک،12جنوری(ہ س)۔
یمن میں حوثی فوجی اہداف پر امریکی اور برطانوی حملوں کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے جمعرات کو تادیر نیویارک شہر کے ٹائمز اسکوائر اور وائٹ ہاوس کے باہر چند درجن جنگ مخالف کارکنان جمع ہوئے اور کہا اس قدم سے غزہ جنگ کے پھیلنے کا خدشہ ہے۔امریکہ اور برطانیہ نے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کے جواب میں فضائی اور سمندری حملوں کا آغاز کیا۔ حوثی تحریک نے کہا ہے کہ بحری جہازوں پر ان کے حملے حماس کے زیرِ انتظام غزہ میں اسرائیل کے محاصرے میں فلسطینیوں کی حمایت میں ہیں۔
ٹائمز اسکوائر پر مظاہرین نے شرقِ اوسط سے ہاتھ ہٹاو، یمن سے ہاتھ ہٹاو اور غزہ سے ہاتھ ہٹاو جیسے نعرے لگائے۔وہائٹ ہاوس کے قریب مظاہرین نے فلسطینی پرچم لہرائے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا آزاد فلسطین اور یمن پر بمباری بند کرو۔
اکتوبر میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے یمن میں حملے اب تک کے ایک سب سے زیادہ ڈرامائی مظاہرے کی نمائندگی کرتے ہیں جو جنگ کو وسعت دے سکتا ہے حالانکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ان کا کشیدگی کو بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے جو یمن کے زیادہ تر حصے پر قابض ہیں، نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے جس سے جہاز راستہ بدلنے اور طویل راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔غزہ تنازعہ 7 اکتوبر کو فلسطینی اسلامی گروپ حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوا جس میں اسرائیل نے کہا ہے کہ 1,200 افراد ہلاک ہوئے۔غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق غزہ پر اسرائیل کے حملے میں 23,000 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جو وہاں کی 2.3 ملین آبادی کا تقریباً 1% ہے۔
جمعرات کے مظاہروں کا اہتمام دیگر اداروں اور اتحادی گروپ اے این ایس ڈبلیو ای آر نے کیا تھا جس کا مخفف ہے: جنگ اور نسل پرستی کو ختم کرنے کے لیے ابھی عمل کریں۔
گروپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، وہ یمن میں حملوں کو ایک بڑی کشیدگی سمجھتا ہے جو ایک وسیع علاقائی جنگ کا باعث بن سکتی ہے۔غزہ جنگ امریکہ کے کئی حصوں میں احتجاجی مظاہروں کا سبب بنی ہے جن میں نیویارک شہر اور لاس اینجلس کے ہوائی اڈوں اور پلوں کے قریب، وائٹ ہاوس کے باہر شمعیں روشن کرنے کی تقاریب، اور واشنگٹن میں یو ایس کیپیٹل کے قریب مارچ شامل ہیں۔
ہندوستھان سماچار
