تل ابیب، 26 اکتوبر (ہ س)۔ غزہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فضائی حملوں میں بڑی تعداد میں لوگ مارے گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے میں الجزیرہ نیوز چینل کے صحافی وائل الدحدوح کے خاندان کے تین لوگ بھی مارے گئے۔ فلسطین کی وزارت صحت نے اس حملے میں کم از کم 25 ہلاکتوں کا دعویٰ کیا ہے۔
غزہ پر اسرائیلی فوج کی بمباری جاری ہے۔ الجزیرہ نیوز چینل کے صحافی وائل الدحدوح کا گھر بھی حملہ کی زد میں آیا۔ اس خاندان نے اسرائیل کی وارننگ کے بعد وسطی غزہ کے سنیرات کیمپ میں پناہ لی تھی۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے تمام شہریوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ جنوبی غزہ کی طرف بڑھیں اور اسی رات محلے میں ہونے والی بمباری سے خوفزدہ صحافی نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ نصرت کیمپ میں پناہ لی۔ اس کیمپ کو بدھ کی رات اسرائیلی فوج نے نشانہ بنایا۔
غزہ میں 7 اکتوبر کو فلسطینیجنگجو تنظیم حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہونے والے تشدد میں اب تک 6,546 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسی دوران اسرائیل میں 1400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے پہلی بار اعتراف کیا ہے کہ انہیں 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کو روکنے میں سیکورٹی لیپس کا جواب دینا ہوگا۔ ایک ٹیلی ویژن خطاب میں انہوں نے کہا کہ سیکورٹی کی چوک کی تحقیقات کی جائیں گی اور تمام ذمہ داروں کا محاسبہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بطور وزیراعظم ملک کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
