غزہ،08دسمبر(ہ س)۔
میڈیاذرائع کے مطابق غزہ کی پٹی میں جنگ اپنے تیسرے مہینے میں داخل ہونے کے بعد اسرائیل نے آج جمعہ کی صبح دیر البلح کے مشرق میں شدید بمباری کی ہے۔ہمارے نامہ نگار نے بتایا کہ بمباری کے نتیجے میں بہت سے عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں ہیں۔ شہری وحشیانہ بمباری سے بچنے کے لیے پناہ گاہوں کی طرف جانے کی کوشش کررہے ہیں مگر اسرائیلی فوج کی طرف سے انہیں کھلے مقامات میں بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ متعدد زخمی افراد کو شہدا الاقصیٰ ہسپتال پہنایا گیا ہے۔ قابض فوج نے نصیرات کیمپ کو بھی اسی طرح کی بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔
غزہ کی پٹی کے سب سے بڑے شہروں میں حماس اور اسرائیلی فوج کے درمیان کل جمعرات کو شدید جنگ جاری رہی۔7 اکتوبر کے حملوں کے بعد اسرائیل اور فلسطینی تحریک حماس کے درمیان خونریز لڑائی اپنے تیسرے مہینے میں داخل ہو گئی۔حماس کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں محصور اور تباہ ہونے والے چھوٹے فلسطینی علاقے میں مرنے والوں کی تعداد جمعرات کو بڑھ کر 17,177 ہو گئی، جن میں سے تقریباً 70 فیصد خواتین اور بچے ہیں جن کی عمریں 18 سال سے کم تھیں۔
فضائی اور بحری تعاون کے ساتھ جمعرات کو اسرائیلی ٹینک اور بلڈوزر خان یونس پہنچے اور جنوبی غزہ کی پٹی کے اس سب سے بڑے شہر میں لڑائی ہوئی۔ حماس کے جنگجوو¿ں کی غزہ شہر اور پڑوسی جبالیہ کے علاقے کے شمال میں اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔شمال کی طرف درجنوں اسرائیلی ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں غزہ کے پرانے شہر میں داخل ہوئیں۔ خان یونس میں فوج نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اس نے حماس کے متعدد ارکان کو ہلاک اور درجنوں اہداف پر بمباری کی ہے۔ڈاکٹرز وِدآوٹ بارڈرز کے مطابق شمالی غزہ کے شہداء الاقصیٰ ہسپتال میں 24 گھنٹوں کے اندر 115 لاشیں پہنچیں۔جمعرات کو اسرائیلی چینلز نے ایسے کلپس نشر کیے جن میں غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجیوں کی حراست میں درجنوں فلسطینیوں کو قید دکھایا گیا ہے جن کے جسموں پر معمولی کپڑے ہیں اور آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئی ہیں۔ادھر جنوبی غزہ کے علاقے رفح میں النجار ہسپتال کے مردہ خانے کے فرش پر سفید پلاسٹک میں لپٹی تقریباً بیس لاشیں رکھی گئی ہیں، جن میں بچوں کی لاشیں بھی شامل تھیں۔ان لاشوں کے گرد ان کے پیارے روتے دیکھے جا سکتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
