شمالی کوریا نے 80-1970 کی دہائی میں تولید پر پابندی لگا دی تھی
سیول، 4 دسمبر (ہ س)۔ شمالی کوریا کے آمر کم جونگ نے ملک کو مضبوط بنانے کے لیے خواتین سے زیادہ بچے پیدا کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس کی وجہ ملک میں شرح پیدائش میں کمی کو دورکرنا ہے۔ کم جونگ کی حکومت خواتین پر زور دے رہی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کریں۔ کم نے یہ اپیل اتوار کو ماوں کے قومی اجلاس کے دوران کی۔
کم نے کہا کہ شرح پیدائش میں کمی کو دورکرنا اور بچوں کی پرورش اور انہیں تعلیم فراہم کرنا ہمارے خاندانی معاملات ہیں۔ ہمیں اپنی ماوں کے ساتھ مل کر ان کو حل کرنا چاہیے۔ جنوبی کوریا کی حکومت کا اندازہ ہے کہ شمالی کوریا کی شرح پیدائش گزشتہ 10 سالوں سے مسلسل گر رہی ہے۔ چوطرفہ پابندی سے گھری اقتصادیات کو بنائے رکھنے کے لیے منظم محنت پرمنحصر ملک کے لیے یہ صورتحال تشویشناک ہے۔ محدود ڈیٹا کی وجہ سے شمالی کوریا کی آبادی کے رجحانات کے بارے میں معلومات حاصل کرنا مشکل ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا میں بہت سے خاندان ایک سے زیادہ بچے پیدا کرنے پر یقین نہیں رکھتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں لگتا ہے کہ بچوں کی دیکھ بھال، اسکول وغیرہ میں اخراجات ہوں گے۔ کئی شمالی کوریا کے متعدد منحرف افراد کا انٹرویو لینے والے اہن کیونگ سو نے کہا کہ پچھلے 20 سالوں میں جنوبی کوریا کے ٹی وی ڈراموں اور فلموں کی بڑی تعداد نے شاید شمالی کوریا میں خواتین کو زیادہ بچے پیدا نہ کرنے کی ترغیب دی۔ شمالی کوریا نے آبادی میں اضافے کو کم کرنے کے لیے 80-1970 کی دہائی میں پیدائش پر قابو پانے کا پروگرام نافذ کیا۔ سیئول میں قائم ہنڈائی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے اگست میں اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ 1990 کی دہائی کے وسط میں قحط میں بڑی تعداد میں لوگوں کی موت کے بعد ملک کی شرح پیدائش میں تیزی سے کمی واقع ہوئی تھی۔
ہندوستھان سماچار//سلام
