تل ابیب،29اکتوبر(ہ س)۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کی پٹی میں 230 قیدیوں کی موجودگی کی تصدیق کے بعد حماس نے ایک بار پھر قیدیوں کی رہائی کے لیے اپنی شرائط کو دہرایا ہے۔حماس نے ہفتے کے روز ایک بیان میں ایک بار پھر اسرائیلی جیلوں میں قید تمام فلسطینیوں کے بدلے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے آمادگی کا اعلان کا اظہارکیا۔
حماس نے وضاحت کی کہ وہ تبادلے کے معاہدے کے لیے تیار ہے جس میں تمام قیدیوں کے بدلے تمام فلسطینی اسیران شامل ہوں۔تاہم اسرائیلی فوج نے اس پیشکش کو تل ابیب پر دباو¿ ڈالنے کے لیے ایک نفسیاتی جنگ قراردیا ہے۔یہ 7 اکتوبر سے حماس کے جنگجوو¿ں کے زیر حراست قیدیوں کے خاندانوں کو غزہ میں جاری فضائی اور زمینی کارروائیوں کے دوران تشویش لاحق ہے۔ہم تبادلے کے معاہدے کے لیے تیار ہیں جس میں تمام قیدیوں کے بدلے تمام فلسطینی اسیران شامل ہوں: حماس
زیر حراست افراد کے اہل خانہ جن میں اکثریت اسرائیلیوں کی ہے نے اپنی تشویش کرتے ہوئے حکومت سے کہا ہے کہ وہ غزہ پر بمباری میں مرنے والے یرغمالیوں کے بارے میں وضاحت کرے۔انہوں نے آج ہفتے کے روز ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ وہ حکومت اور وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی طرف سے وضاحت کی منتظر ہیں۔یرغمالیوں کے اہل خانہ نے وزیر دفاع یوو گیلنٹ اور جنگی کابینہ کے ارکان سے ملاقات کی بھی درخواست کی ہے۔اسرائیلی نشریاتی ادارے کی طرف سے نشرکردہ رپورٹ کے مطابق رہائشیوں نے دھمکی دی کہ اگر نیتن یاہو اور گیلنٹ نے ان سے ملاقات نہ کی تو آج شام مظاہرے کریں گے۔یہ خاندان اس بارے میں وضاحت طلب کرتے ہیں کہ زمینی لڑائی کس طرح زیر حراست افراد پر اثر انداز نہیں ہوتی اور اس بات کی کیا ضمانتیں ہیں کہ انہیں قتل نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کے چیف ترجمان نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ آیا غزہ میں کل جمعہ کو ہونے والی مواصلاتی بندش کا ذمہ دار اسرائیل ہے یا نہیں اور صرف اتنا کہا کہ اسرائیل اپنی افواج کے تحفظ کے لیے جو ضروری ہوگا وہ کرے گا۔قابل ذکر ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان قطر اور مصر کی ثالثی میں متعدد قیدیوں کی رہائی کے لیے جاری بالواسطہ مذاکرات سے واقف ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ وہ اختتام کو پہنچ چکے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
