بتیا، 26 اکتوبر۔ بہارکےبتیا سے دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں بدھ کے روز ایک باپ نے اپنے پانچ سالہ معصوم بیٹے کو پھانسی لگا کر قتل کر دیا اور پھر اپنی زندگی کا بھی خاتمہ کر لیا۔ واقعہ کو انجام دینے سے پہلے اس نے اپنی اہلیہ کو ویڈیو کال کی اور کہا کہ میں اپنے بیٹے کو قتل کرنے جا رہا ہوں۔ اس کی اہلیہ اپنے مائکے میں رہ رہی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں کے درمیان گھریلو تنازعہ چل رہا تھا۔
معاملہ بتیا کے لوریا تھانہ علاقہ کے کندھاوالیا گاؤں کا ہے۔ متوفیوں کی شناخت 43 سالہ عظیم اللہ اور اس کے بیٹے 5 سالہ ایان کے نام سے ہوئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نوجوان نے خاندانی تنازعہ کی وجہ سے یہ قدم اٹھایا ہے۔ دوسری جانب شوہر کی جانب سے بیٹے کو قتل کرنے کی بات سن کر عظیم اللہ کی اہلیہ حریرہ اپنے بھائی توصیف کے ہمراہ سسرال پہنچی لیکن تب تک باپ بیٹے کی جان جا چکی تھی۔ پھر اس کے شوہر اور بیٹے کی لاش کو پھندے سے اتارا گیا۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور معاملے کی تفتیش شروع کردی۔ لوریہ تھانہ انچارج کیلاش کمار نے بتایا کہ دونوں لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ یہ کافی افسوسناک واقعہ ہے۔ پولیس نے مزید کارروائی شروع کر دی ہے۔ پولیس نے لاش کو اپنی تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بتیا جی ایم سی ایچ بھیج دیا ہے۔
پولیس کے مطابق عظیم اللہ گاؤں کے چوک پر کرانہ کی دکان چلاتا تھا۔ اس کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا۔ شوہر اور بیوی کے درمیان جھگڑے کی وجہ سے اس کی بیوی ڈیروا گاؤں میں اپنے مائکے میں تقریباً ڈیڑھ ماہ سے رہ رہی ہے۔ عظیم اللہ اکیلے اپنے تین بچوں کی پرورش اور کاروبار چلانے میں پریشان تھا۔ اس سے تنگ آ کر اس نے پہلے اپنے گھر کے کمرے میں جا کر اپنے بیٹے کو پھانسی دے دی۔ پھر اس نے پھانسی لگا کر خودکشی کر لی۔
