ممبئی ۔
سیشن کورٹ نے بدھ کے روز کولابہ علاقے میں تین ماہ کے بچے کے اغوا اور قتل کے مجرم خواجہ سراکو سزائے موت سنائی۔ خصوصی عدالت کی جج آدیتی کدم نے اس کیس کو انتہائی ظالمانہ اور شیطانی واقعہ قرار دیا ہے۔ اس معاملے کا مجرم خواجہ سرا گرفتاری کے بعد سے جیل میں ہے۔
سال 2021 میں کولابا کے کف پریڈ کے علاقے میں مجرم خواجہ سرا نے پہلے متاثرہ کے بچے کو آشیر واد دیا تھا۔ اس کے بعد اگلے روز 8 جولائی 2021 کو خواجہ سرا نے بچے کو اغوا کر کے بچے کے ساتھ گھناو¿نی حرکت کر کے اسے قتل کر دیا اور شواہد مٹانے کے لیے بچے کی لاش کو سمندر کے کنارے ایک ویران جگہ پر پھینک دیا۔ سمندر کے کنارے سے بچے کی لاش برآمد ہونے کے بعد تھانہ کف پریڈ کی ٹیم نے تفتیش کرتے ہوئے مجرم خواجہ سرا کو گرفتار کر لیا۔ دوران تفتیش مجرم خواجہ سرا نے پولیس کو بتایا کہ اس نے بچے کے گھر جا کر اسے آشیرواد دیا اور گھر والوں سے ساڑھی، ناریل اور پیسے مانگے لیکن گھر والوں نے کچھ نہیں دیا۔ اس لیے اس نے غصے میں ایسا کیا۔ عدالت میں سماعت کے دوران سرکاری وکیل راکیش تیواری نے کیس کو انتہائی نفرت انگیز قرار دیتے ہوئے قصور وار کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ خصوصی پوکسو عدالت کی جج ادیتی کدم نے ثبوت کی بنیاد پر کیس کو انتہائی ظالمانہ قرار دیتے ہوئے مجرم کو موت کی سزا سنائی۔
