پٹنہ،18جولائی(ہ س)۔بہار کی راجدھانی پٹنہ کے اسپتال میں قتل کی ایک اور سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ قتل سے پہلے کس طرح منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ 6 جرائم پیشہ منصوبہ بندی کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ان میں سے ایک، جس نے ہیلمٹ پہنا ہوا ہے، سب سے پہلے چلا جاتا ہے۔
سی سی ٹی وی میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ اسپتال کے ساتھ والی گلی میں سڑک کے کنارے کھڑے ہو کر کل دو منٹ کی پلاننگ ہوتی ہے۔ تمام جرائم پیشہ صبح 7:13 سے صبح 7:15 تک بات کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ آرام سے اسپتال کی طرف چل پڑے۔ ایک جرائم پیشہ اسپتال کے باہر ریکی کرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
اس کے بعد 5 جرائم پیشہ اسپتال کے کمرہ نمبر 5 میں داخل ہوئے اور فائرنگ شروع کردی۔ اس میں بدنام زمانہ چندن مشرا کی موت ہو جاتی ہے۔ تمام جرائم پیشہ دو موٹر سائیکلوں پر پہنچے تھے۔ پولیس ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق اس معاملے میں کچھ لوگوں کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔ ان سے مسلسل پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
جمعرات کی صبح جب اسپتال میں یہ واقعہ ہوا تو اس کے فوراً بعد پٹنہ کے زونل آئی جی جتیندر رانا اور ایس ایس پی کارتکیہ کے شرما بھی موقع پر پہنچے۔ کافی دیر وہاں تفتیش کرنے کے بعد وہ وہاں سے چلے گئے۔ ایس ایس پی کے مطابق تمام جرائم پیشوں کی شناخت کر لی گئی ہے اور بہت جلد تمام مجرم سلاخوں کے پیچھے ہوں گے۔
واضح ہو کہ متوفی چندن مشرا کے خلاف بھی تقریباً 24 مجرمانہ معاملے درج تھے۔ وہ پٹنہ کے ایک بڑے پرائیویٹ اسپتال میں پیرول پر علاج کروا رہے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بالادستی کی لڑائی ہے۔ چندن مشرا کی شیرو گینگ سے دشمنی تھی۔ حالانکہ دونوں پہلے دوست تھے۔ شیرو فی الحال پرولیا جیل میں بند ہے۔
مجموعی طور پر پٹنہ میں گینگ وار نے سیکورٹی کو لے کر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ ایک طرف اپوزیشن اس معاملے پر حکومت کو گھیر رہی ہے۔ دوسری جانب نائب وزیر اعلیٰ وجے سنہا کا کہنا ہے کہ جو بھی مجرم ہوگا، اسے بخشا نہیں جائے گا۔ اسے اس کی سمجھ میں آنے والی زبان میں سمجھایا جائے گا، ضرورت پڑنے پر انکاؤنٹر بھی کیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan
