امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی نے عالمی مالیاتی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، جن میں اسٹاک مارکیٹس کے ساتھ ساتھ کرپٹو کرنسی مارکیٹ بھی شامل ہے۔ بٹ کوائن، جو دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی مانی جاتی ہے، اس صورتحال سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ جہاں ایک جانب ٹرمپ کی انتخابی مہم میں کرپٹو کے لیے نرمی کا عندیہ دیا گیا، وہیں ان کی معاشی پالیسیوں نے غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی، جس کے باعث کرپٹو مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملا۔
BulletsIn
-
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی نے دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں بے چینی پیدا کی۔
-
اس پالیسی کے اثرات کرپٹو کرنسی مارکیٹ پر بھی نمایاں طور پر مرتب ہوئے۔
-
بٹ کوائن کی قیمت میں زبردست گراوٹ دیکھی گئی۔
-
جنوری 2025 میں بٹ کوائن کی قیمت 1,09,000 ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی۔
-
آج کی ٹریڈنگ میں بٹ کوائن کی قیمت کم ہو کر 76,753 ڈالر رہ گئی ہے۔
-
ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کرپٹو قوانین میں نرمی اور اسٹریٹجک کرپٹو ریزرو بنانے کی بات کی تھی۔
-
ان بیانات کے بعد کرپٹو مارکیٹ میں مثبت رجحان پیدا ہوا تھا۔
-
6 نومبر 2024 کو انتخابی نتائج کے فوراً بعد بٹ کوائن نے پہلی بار 75,000 ڈالر کا ہندسہ عبور کیا۔
-
اس کے بعد بٹ کوائن کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔
-
بٹ کوائن نے 20 جنوری 2025 کو اپنی بلند ترین سطح 1,09,114.88 ڈالر پر پہنچ کر نیا ریکارڈ قائم کیا۔
اگر آپ چاہیں تو میں اس پر ایک گراف یا چارٹ بھی بنا سکتا ہوں۔
