نئی دہلی، 16 اکتوبر (ہ س)۔
خودرہ کے بعد اب عام آدمی کو تہواروں سے قبل تھوک مہنگائی سے بڑا ریلیف مل گیا ہے۔ ہول سیل پرائس انڈیکس (ڈبلیو پی آئی ) پر مبنی تھوک مہنگائی کی شرح سالانہ بنیادوں پر ستمبر میں کم ہو کر -0.26 فیصد رہ گئی ہے۔ ہول سیل مہنگائی کی شرح میں مسلسل چھٹے مہینے کمی آئی ہے۔ اگست میں یہ -0.52 فیصد کی پانچ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔
وزارت تجارت اور صنعت نے پیر کو جاری کردہ اعداد و شمار میں کہا کہ ڈبلیو پی آئی پر مبنی تھوک مہنگائی ستمبر کے مہینے میں کم ہو کر -0.26 فیصد پر آ گئی ہے۔ ستمبر 2022 میں تھوک مہنگائی کی شرح 10.55 فیصد تھی۔ گزشتہ ماہ اگست میں تھوک مہنگائی -0.52 فیصد کی پانچ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔ جبکہ جولائی کے مہینے میں یہ -1.36 فیصد تھا۔
وزارت کے مطابق ستمبر کے مہینے میں تھوک مہنگائی میں کمی واقع ہوئی جس کی بنیادی وجہ کیمیکل اور کیمیکل مصنوعات، معدنی تیل، ٹیکسٹائل، بنیادی دھاتیں اور غذائی مصنوعات کی قیمتوں میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں کمی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں اشیائے خوردونوش کی مہنگائی کم ہو کر 3.35 فیصد رہی جبکہ اگست میں یہ 10.60 فیصد تھی۔ ستمبر میں ایندھن اور بجلی کے شعبے میں افراط زر منفی 3.35 فیصد تھی جو اگست میں -6.03 فیصد تھی۔ اسی طرح ستمبر میں تیار شدہ مصنوعات کی افراط زر منفی 1.34 فیصد تھی جب کہ اگست میں یہ منفی 2.37 فیصد تھی۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ قومی شماریاتی دفتر کی طرف سے گزشتہ ہفتے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں خوردہ افراط زر کی شرح سالانہ بنیادوں پر کم ہو کر 5.02 فیصد کی تین ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی۔ خوردہ مہنگائی میں کمی کی سب سے بڑی وجہ سبزیوں اور ایندھن کی گرتی ہوئی قیمتیں ہیں۔
ہندوستھان سماچار
