سرینگر، 29 اگست (ہ س): جموں و کشمیر بھر میں سرکاری ڈگری کالجوں کی ایک بڑی تعداد سربراہوں سے محروم ہیں، جس سے ان اداروں کے تعلیمی اور انتظامی کام کاج میں شدید رکاوٹ ہے۔اندرونی ذرائع نے بتایا کہ پرنسپلوں کی غیر موجودگی اور پچھلے تین ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی نے عملے کے حوصلے پست کر دیئے ہیں اور خاص طور پر نئے قائم ہونے والے اداروں میں ترقیاتی کام ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق، تقریباً 45 ڈگری کالج اس وقت باقاعدہ پرنسپل کے بغیر ہیں، جو قریبی اداروں سے اضافی چارج کی بنیاد پر چلائے جا رہے ہیں۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ تقریباً دس کالج مکمل طور پر سربراہ کے بغیر ہیں، جن میں روزمرہ کے معاملات کو سنبھالنے کے لیے کوئی ڈی ڈی او/ پرنسپل نہیں ہے۔قیادت کے اس خلا نے تعلیمی منصوبہ بندی، داخلوں، امتحانات اور سب سے اہم ترقیاتی کاموں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ پرنسپل صاحبان کی غیر موجودگی میں، اہم فائلیں نظر نہیں آتیں اور منظوریوں میں تاخیر ہوتی ہے۔ یہ مسئلہ خاص طور پر 2019 میں قائم ہونے والے نئے کالجوں میں دکھائی دے رہا ہے، جن کا مقصد دیہی اور نیم شہری علاقوں میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع کو بڑھانا تھا۔ مناسب قیادت کے بغیر یہ ادارے بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھی جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس کی ایک روشن مثال کولگام ضلع میں واقع گورنمنٹ ڈگری کالج فریسل ہے، جو کئی مہینوں سے پرنسپل کے بغیر کام کر رہا ہے۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ کالج ترقیاتی فنڈز کا استعمال نہیں کر پا رہا ہے اور یہاں تک کہ روزمرہ کا انتظام بھی مشکل ہو گیا ہے۔گزشتہ تین ماہ سے عملے کی تنخواہیں جاری نہیں کی گئیں۔ اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کو مالی دباؤ کا سامنا ہے۔جموں ڈویژن کے ایک اور بڑے کالج جی ڈی سی بدھرواہ میں بھی صورتحال بہتر نہیں ہے۔ مقامی لوگ اور ملازمین شکایت کرتے ہیں کہ قیادت کی عدم موجودگی نے نہ صرف ترقی کو روکا ہے بلکہ طلباء کو داخلہ لینے سے بھی روکا ہے۔والدین اپنے بچوں کو ایسے کالجوں میں داخل کرنے میں ہچکچاتے ہیں جہاں اس طرح کا صحیح نظام نہیں ہے جس نظام کی وجہ سے بنیادی انتظامی کام جیسے تنخواہوں کی تقسیم، انفراسٹرکچر کی ترقی، اور تعلیمی منصوبہ بندی خراب ہو جائے گی، تو طلباء معیاری تعلیم کیسے حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کالجوں میں کام کرنے والے ملازمین کا کہنا ہے کہ انہوں نے بارہا اس معاملے کو اعلیٰ حکام کے ساتھ اٹھایا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ فیکلٹی ممبران کے ایک گروپ نے کہا، ہم مہینوں سے تنخواہوں کے بغیر کام کر رہے ہیں۔ ہمارے خاندانوں کو مشکلات کا سامنا ہے، اور ابھی تک کوئی حل فراہم نہیں کیا گیا ہے۔ حکومت کو فوری طور پر باقاعدہ پرنسپلوں کی تقرری اور تنخواہوں کی تقسیم کو منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ ماہرین تعلیم نے خبردار کیا ہے کہ طویل انتظامی خلا جموں و کشمیر میں اعلیٰ تعلیم پر طویل مدتی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ پلوامہ کے ایک مشہور ماہر تعلیم غلام نبی میر نے کہا2019 کے کالج دیہی طلباء کے لیے تعلیم تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے ایک بڑا قدم تھا۔ لیکن اگر وہ بغیر سربراہان کے رہے تو پورا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے۔ فیکلٹی ممبران، طلباء اور رہائشیوں نے وزیر ہائر ایجوکیشن سکینہ ایتو سے اس مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ ملازمین تنخواہوں کے بغیر بری طرح متاثر ہو رہے ہیں اور ایسے اداروں میں ترقیاتی کام شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Aftab Ahmad Mir
