کوئٹہ ، 29 اگست (ہ س)۔ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں آدھی رات کو ایک گھر پر ہوئی چھاپے ماری کے دوران کم از کم پانچ بلوچ طلبا کوپاکستانی حکام زبردستی اٹھا لے گئے۔ بتایا گیا ہے کہ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے اہلکاروں نے صبح ساڑھے 3 بجے کوئٹہ کے علاقے عیسیٰ نگری میں ایک گھر پر چھاپہ مارا۔ یہاں سے وہ کم از کم پانچ طالب علموں کو اغوا کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔
دی بلوچستان پوسٹ کے مطابق پاکستانی حکام نے محمد یاسین (17)، شبیک (18)، قدیر احمد (18)، قدیر للہ (17) اور اکرم تکسیر (16) کو اغوا کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق محمد یاسین ولد مسکان ساکن شاپک تربت کیچ، شبیک ولد محمد اسلم ساکن شاپک تربت کیچ، قدیر احمد ولد پلن ساکن عمری خان سمیع تربت کیچ اور قدیر للہ ولد للہ ساکن تربت کیچ کے طالب علم ہیں۔ ان کے ساتھ اغوا کیا گیا اکرم تکسیر ولد تکسیر احمد،ساکن عمری خان سمیع تربت کیچ میٹرک کا طالب علم ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) نے ایک بیان میں واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے تمام مغوی طلبہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ بی وائی سی نے کہا کہ قبل ازیں انٹیلی جنس ایجنسیوں، کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور پولیس اہلکاروں نے بدھ کی رات تقریباً 8:00 بجے گولیمار چوک سے تنظیم کے ایک سرگرم رکن نذر مری کو حراست میں لیا۔ اس کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ اس کے علاوہ پاکستانی فوج نے 21 اگست کو یاسین ولد اجمل کو مبینہ طور پر اغوا کیا تھا۔اواران کے علاقے جھاو سے ابراہیم ولد میران کو اغوا کیا گیا تھا۔
بی وائی سی نے کہا ہے کہ ایسے واقعات سے بلوچوں میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔ گروپ نے انسانی حقوق کی تنظیموں، میڈیا اور عالمی برادری سے تعاون کی اپیل کی ہے۔ ادھر پاکستانی حکام نے طالب علموں کے اغوا کے الزامات پر تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد
