یقینی طور پر، یہاں بھارت مالا پروجیکٹ سے جڑے ایک بڑے مالیاتی گھپلے پر مبنی رپورٹ کا خلاصہ پیش ہے۔ اقتصادی جرائم ونگ (EOW) کی جانب سے کی گئی تفتیش میں ایکسپریس وے کی تعمیر کے دوران معاوضے میں شدید بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ دشمیش بلڈرز کے دفتر پر چھاپہ، مشتبہ لین دین، اور زمین کی غیر قانونی تقسیم جیسے انکشافات اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ سرکاری منصوبوں میں کس طرح بڑے پیمانے پر کرپشن کی جا رہی ہے۔
BulletsIn
-
اقتصادی جرائم ونگ نے دشمیش بلڈرز کے دفتر پر چھاپہ مارا، جو بھارت مالا پروجیکٹ کے تحت تعمیر ہونے والے ایکسپریس وے سے متعلق ہے۔
-
یہ دفتر پہلے ہی 25 اپریل کو سیل کیا جا چکا تھا۔
-
تفتیشی ٹیم نے دفتر میں موجود تمام دستاویزات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔
-
ابتدائی جانچ میں 43 کروڑ روپے کے گھوٹالے کا انکشاف ہوا، جو بعد میں بڑھ کر 220 کروڑ روپے سے زائد ہو گیا۔
-
اب تک 164 کروڑ روپے سے زیادہ کے مشتبہ مالی لین دین کے ثبوت حاصل ہو چکے ہیں۔
-
نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے چیف ویجلنس آفیسر نے دہلی کے دباؤ پر رائے پور کلکٹر کو تحقیقات کی ہدایت دی۔
-
اپوزیشن لیڈر چرنداس مہنت نے اسمبلی میں یہ معاملہ اٹھایا اور سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ کیا۔
-
ایک ایکڑ اراضی کو غیر قانونی طور پر 500 سے 1000 مربع میٹر کے ٹکڑوں میں تقسیم کیا گیا۔
-
32 پلاٹوں کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرکے 142 پلاٹ بنائے گئے، جس سے معاوضے کی رقم 35 کروڑ سے بڑھ کر 326 کروڑ ہو گئی۔
-
ان میں سے 248 کروڑ روپے کی ادائیگی کی جا چکی ہے جبکہ 78 کروڑ روپے کا دعویٰ ابھی زیر التواء ہے۔
