26 جولائی 2025 کو دنیا نے تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع کی خبر پر آنکھ کھولی۔ فضائی حملوں، راکٹ فائر اور توپوں کے تبادلوں نے ایک پُر امن سرحد کو مکمل جنگی میدان میں بدل دیا۔ یہ صرف نقشے کی لکیروں پر جھگڑا نہیں بلکہ ایک بحران ہے جو تاریخ، عقیدے اور قومی وقار میں جڑیں رکھتا ہے۔ اب تک 32 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 130 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں جن میں بچے اور عام شہری بھی شامل ہیں۔ دنیا سانس روکے اس صورت حال کو دیکھ رہی ہے۔ یہ مضمون اس تنازع کی تاریخی بنیاد، ثقافتی پہلو، انسانی نقصان اور بھارت کے کردار کا جائزہ لیتا ہے۔
تاریخی پس منظر: 900 سال پرانا تنازع
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان پریاہ ویہیار مندر اور اس کے ارد گرد کے علاقے کا تنازع نئی بات نہیں۔ یہ مندر خمیر سلطنت کے دور سے ایک روحانی اور قومی فخر کی علامت ہے۔ 1907 میں فرانسیسی کالونیل نقشے نے مندر کو کمبوڈیا کا حصہ قرار دیا، لیکن تھائی لینڈ نے اس نقشے کی حیثیت کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ 1962 میں بین الاقوامی عدالت انصاف نے فیصلہ دیا کہ مندر کمبوڈیا کا ہے، تاہم تھائی لینڈ نے مندر کے ساتھ والی زمین پر دعویٰ برقرار رکھا۔ 2008 میں کمبوڈیا نے اس مندر کو یونیسکو عالمی ورثہ قرار دلوایا، جس پر تھائی لینڈ نے سخت رد عمل ظاہر کیا۔
موجودہ تنازع: اب کیوں؟
2025 میں تھائی لینڈ کی سیاسی عدم استحکام اور کمبوڈیا کی قیادت کی جارحانہ حکمت عملی نے حالات کو پھر بھڑکا دیا۔ تھائی لینڈ، جہاں وزیر اعظم پائتونتارن شیناواترا کو معطل کر دیا گیا، عبوری حکومت کے تحت “یُتھا بودِن آپریشن” کے نام سے F-16 طیاروں سے کمبوڈیا پر حملہ آور ہوا۔ جواب میں کمبوڈیا نے BM‑21 راکٹوں سے تھائی سرحدی علاقوں پر حملے کیے۔ ایک لیک ہونے والی کال جس میں تھائی لینڈ کے سابق وزیر اعظم اور کمبوڈیا کے سینیٹ صدر کے درمیان خفیہ معاہدے کی بات کی گئی، نے عوامی اور فوجی غصے کو مزید بھڑکایا۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر جنگی جرائم کا الزام لگایا ہے، جن میں شہریوں پر حملے اور کلسٹر بموں جیسے ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال شامل ہے۔
انسانی بحران: عام لوگ زد میں
اس سرحدی تنازع نے 1.5 لاکھ سے زیادہ افراد کو بے گھر کر دیا ہے۔ صرف تھائی لینڈ میں، ترات اور سیساکیت صوبوں سے 1,38,000 سے زائد افراد کو نکالا جا چکا ہے۔ کمبوڈیا کے پریاہ ویہیار اور اوڈار مینانچی صوبوں میں کم از کم 20,000 لوگ بے گھر ہوئے۔ اسکول، اسپتال اور دیگر انفرا اسٹرکچر تباہ یا متاثر ہو چکے ہیں۔ بچے اسکول کے بجائے بنکروں میں چھپے ہوئے ہیں، اور خاندان عارضی کیمپوں میں کھلے آسمان تلے آگ پر کھانا پکا رہے ہیں۔ تھائی لینڈ نے الزام لگایا کہ کمبوڈیا نے ایمبولینسوں کو نشانہ بنایا، جبکہ کمبوڈیا نے الزام دیا کہ تھائی لینڈ نے شہری علاقوں میں کلسٹر بم استعمال کیے۔
بھارت سے ثقافتی تعلقات: مشترکہ ورثہ
جنوب مشرقی ایشیا، خاص طور پر تھائی لینڈ اور کمبوڈیا، پر بھارت کے گہرے ثقافتی اثرات موجود ہیں۔ کمبوڈیا کا انگکور واٹ، دنیا کا سب سے بڑا ہندو مندر کمپلیکس، وشنو دیوتا کے نام پر ہے۔ پریاہ ویہیار مندر بھی 9ویں صدی کا ایک شیو مندر ہے۔ تھائی لینڈ کا قومی رزمیہ “رامکیئن”، بھارت کے رامائن پر مبنی ہے۔ سنسکرت زبان نے خمیر اور تھائی دونوں زبانوں کو متاثر کیا ہے۔ بھارت کے یوگا سینٹرز، مندر، کلاسیکی رقص، اور روحانی ادارے دونوں ممالک میں موجود ہیں۔ یہ تنازع دراصل اس ثقافتی ہم آہنگی میں دراڑ کا بھی مظہر ہے جو کبھی ان قوموں کو متحد کرتی تھی۔
عالمی ردعمل اور آسیان کی کمزوریاں
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ہنگامی اجلاس میں دونوں ممالک سے جنگ بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ کمبوڈیا نے آسیان چیئر ملیشیا کی تجویز کردہ جنگ بندی کو قبول کیا، جبکہ تھائی لینڈ نے تیسرے فریق کی ثالثی کو مسترد کرتے ہوئے دو طرفہ مذاکرات پر زور دیا۔ آسیان کی طرف سے رکن ممالک میں امن قائم کرنے میں ناکامی نے اس کے ادارہ جاتی کمزوریوں کو بے نقاب کیا۔ امریکا، چین، فرانس اور بھارت نے تحمل کی اپیل کی اور ثالثی کی پیشکش کی، لیکن اب تک کوئی نمایاں سفارتی پیش رفت نہیں ہوئی۔
بھارت کا کردار: سفارت کاری اور تارکین وطن کا تحفظ
بھارت نے غیر جانبدار موقف اختیار کیا ہے، امن کی اپیل کے ساتھ اپنے شہریوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا ہے۔ کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے متنازعہ علاقوں میں موجود بھارتیوں کے لیے سفری ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ “ایکٹ ایسٹ” پالیسی کے تحت بھارت نے دونوں ممالک سے مضبوط اقتصادی و ثقافتی تعلقات قائم کیے ہیں۔ یوگا ادارے، سفارت خانے اور بھارتی کاروبار دونوں ممالک میں فعال ہیں۔ اگرچہ بھارت اس تنازع کا براہ راست حصہ نہیں، لیکن خطے میں استحکام اور ثقافتی ورثے کے باعث وہ ایک غیر رسمی مگر اہم فریق بن گیا ہے۔
بھارتی نوجوان کیا سیکھ سکتے ہیں؟
بھارتی نوجوان اس بین الاقوامی بحران سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ وہ سفارت کاری، بین الاقوامی قانون اور تنازع حل کرنے جیسے شعبوں میں کیریئر بنا سکتے ہیں۔ صحافت کے خواہشمند طلبہ اس تنازع کو جنگی صحافت کی زندہ مثال کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے این جی اوز کے ساتھ کام کر کے وہ تباہ شدہ مقامات کی بحالی میں مدد دے سکتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ نوجوانوں کو ڈیجیٹل لٹریسی کے ذریعے غلط معلومات کا مقابلہ کرنا ہوگا، اور امن اور ثقافتی یکجہتی کے بیانیے کو فروغ دینا ہوگا۔ چونکہ بھارت کا ثقافتی ڈی این اے ان علاقوں میں پیوست ہے، نوجوانوں کی شرکت اخلاقی اور اسٹریٹجک دونوں لحاظ سے ضروری ہے۔
امن کی طرف راستہ: ممکنہ حل
اس بحران سے نکلنے کے لیے چند واضح حل سامنے آتے ہیں:
-
اقوام متحدہ کی امن فوج کی تعیناتی
-
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان مندر کا مشترکہ انتظام
-
آسیان کے تحت غیر جانبدار سرحدی ٹربیونل کا قیام
-
ثقافتی تبادلے کے پروگرام اور نوجوانوں کی قیادت میں اعتماد بحالی کی کوششیں
بھارت، ویتنام اور انڈونیشیا جیسے غیر جانبدار ممالک غیر سیاسی مکالمے کی سہولت فراہم کر سکتے ہیں۔ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ امن فریق چننے سے نہیں، بلکہ عقل کا انتخاب کرنے سے آتا ہے۔
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی جنگ، فخر، سیاست اور تاریخی زخموں کی ایک المناک داستان ہے۔ لیکن اسی بحران میں وہ یاد دہانی بھی پوشیدہ ہے کہ یہ دونوں قومیں کبھی بھارت کے ذریعے جُڑی ہوئی تہذیب کا حصہ تھیں۔ جب سرحدیں جل رہی ہوں اور سفارت کاری ناکام ہو جائے، تو نئی نسل کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ امن کو بچائے، تاریخ کی حفاظت کرے اور جنگ نہیں، بلکہ دانائی کے ذریعے ٹوٹے رشتوں کو جوڑے۔
