واشنگٹن، 2 مارچ ۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعہ کے روز کہا کہ امریکہ فوری طور پر غزہ میں انسانی بنیادوں پر امدادی سامان بھیجے گا۔ یہ فیصلہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ایک روز قبل غزہ میں امدادی اور اشیائے خوردونوش کے منتظر لوگوں پر اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے پوری دنیا فکرمند ہو گئی ہے۔ اس فائرنگ میں بڑی تعداد میں فلسطینی شہری مارے گئے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بائیڈن نے اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی سے ملاقات سے قبل کہا، ’’غزہ میں بے گناہ لوگ اپنے خاندانوں کا پیٹ پالنے سے قاصر ہیں۔ یہ لوگ خوفناک جنگ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انہیں خوراک اور دیگر امدادی سامان کی ضرورت ہے۔ امریکہ ان کو بھرپور مدد فراہم کرے گا۔‘‘
بائیڈن نے کہا کہ امریکہ اردن کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ اردن غزہ کو فضائی امداد فراہم کرنے میں سب سے آگے رہا ہے۔ غزہ تک امداد سمندری راستے سے بھی پہنچائی جا سکتی ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ غزہ کے لیے بھیجی جانے والی امداد موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے کافی نہیں ہے۔ وہاں ہر شخص کی جان خطرے میں ہے۔
رپورٹ کے مطابق بائیڈن اور محترمہ میلونی نے غزہ میں جنگ کو روکنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ یوکرین کی حمایت پر تبادلہ خیال کیا۔ قومی سلامتی کونسل کے سینئر اہلکار جان ایف کربی نے کہا کہ امریکہ سب سے پہلے ہوائی جہازوں کے ذریعے کھانے کے پیکٹ بھیجے گا۔ اس کے بعد پانی اور دوائی فراہم کی جائے گی۔ ایک امریکی فوجی اہلکار نے بتایا کہ فضائیہ 50,000 فوڈ پیکٹ فراہم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ کربی نے کہا کہ جمعرات کو غزہ میں انسانی امداد لے کر پہنچے ٹرکوں کے پاس پہنچے لوگوں پر فائرنگ سے ہوئی ہلاکتوں نے دنیا کو تشویش میں ڈال دیا ہے۔
