کولکاتا، 18 فروری ۔ مغربی بنگال کے تشدد زدہ سندیشکھالی علاقے میں مختلف داخلی مقامات پر نافذ دفعہ 144 کو پیر سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ ضلع انتظامیہ کے ذرائع نے اتوار کی صبح اس کی معلومات دی۔
بتایا گیا ہے کہ علاقے کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور انٹیلی جنس کی مدد سے معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں کہ اس وقت صورتحال کیا ہے۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ شیبو ہاجرا اور اتم سردار کے خلاف گینگ ریپ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کے بعد خواتین میں ناراضگی کم ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ شیبو ہاجرا کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے جس سے علاقے کے لوگ کافی حد تک مطمئن ہیں۔
جہاں تک شیخ شاہجہاں کی گرفتاری کا سوال ہے، پولیس اس کے لیے ای ڈی کو مورد الزام ٹھہرا رہی ہے۔ ایک دن پہلے ہفتہ کو پریس کانفرنس کے دوران پولیس کے ڈائریکٹر جنرل راجیو کمار نے کہا کہ اگر ای ڈی شیخ شاہجہاں کے خلاف جانچ کر رہی ہے تو وہ انہیں گرفتار کیوں نہیں کرتی ہے؟
اس کے علاوہ خواتین نے الزام لگایا ہے کہ شیبو ہاجرا اور اتم سردار اور شیخ شاہجہاں کے دیگر حواریوں نے ان کی زمینوں پر زبردستی قبضہ کر رکھا ہے۔ اس کے حل کے لیے محکمہ لینڈ ریفارمز کی جانب سے اتوار سے ایک کیمپ کا انعقاد کیا جائے گا جہاں لوگ اپنی شکایات درج کرائیں گے اور ان کی اراضی کی واپسی کا عمل شروع کیا جائے گا۔ ایسے میں دفعہ 144 کو نافذ رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہوگا، کیونکہ لوگوں کی ناراضگی کو مکمل طور پر دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ دو خواتین آئی پی ایس افسران کی قیادت میں پولیس کی جانچ پہلے سے ہی چل رہی ہے۔ جہاں خواتین اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کی شکایت درج کروا سکتی ہیں۔ اس لیے جلد ہی دفعہ 144 کو ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
