اسلام آباد، 18 فروری ۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے راولپنڈی کے کمشنر لیاقت علی چٹھہ کی جانب سے لگائے گئے انتخابی دھاندلی کے الزامات کی جانچ کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ یہ کمیٹی انتخابی عمل سے متعلق مختلف اعلیٰ حکام کے بیانات ریکارڈ کرے گی اور تین دن میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
راولپنڈی کے کمشنر لیاقت علی چٹھہ کی جانب سے لگائے گئے انتخابی دھاندلی کے الزامات کی جانچ کے لیے بنائی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی میں سکریٹری، اسپیشل سیکریٹری اور ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (قانون) سمیت الیکشن کمیشن کے سینئر افسران شامل ہوں گے۔ کمیٹی ریٹرننگ افسران اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران کے بیانات ریکارڈ کر کے تین دن میں رپورٹ کمیشن کو پیش کرے گی۔ پنڈی کمشنر کے خلاف ای سی پی کی توہین سمیت کوئی قانونی کارروائی کی جائے گی یا نہیں اس کا فیصلہ رپورٹ کے نتائج کا تجزیہ کرنے کے بعد کیا جائے گا۔
ای سی پی کی جانب سے کمیٹی کے قیام کا اعلان ہفتے کے روز اس پیش رفت کے بعد کیا گیا ہے جب چٹھہ نے چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس پر انتخابی بے ضابطگیوں میں ملوث ہونے کے سنسنی خیز الزامات لگانے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ چٹھہ نے دعویٰ کیا کہ جیتنے والی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کو ہرایا گیا۔
پاکستان میں عام انتخابات کے نتائج کو آئے ایک ہفتے سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن حکومت سازی کا عمل تاحال شروع نہیں ہوسکا۔ پاکستان میں 8 فروری کو انتخابات ہوئے تھے اور اسی دن ووٹوں کی گنتی شروع ہو گئی تھی جو اگلے دو روز تک جاری رہی۔ پی ٹی آئی عام انتخابات میں دھاندلی اور مینڈیٹ چوری کے الزامات لگا رہی ہے۔
