واشنگٹن،28جنوری(ہ س)۔
اسرائیل کی وزارت خارجہ نے امریکہ اور کینیڈا کی جانب سے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (اونروا) کی فنڈنگ روکنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ اس پس منظر میں اسرائیل نے ریلیف ایجنسی کے کچھ ملازمین پر حماس کے سات اکتوبر کو کیے گئے حملے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے۔ہفتے کے روز، برطانیہ، آسٹریلیا، اٹلی، اور فن لینڈ نے اسی وجہ سے اقوام متحدہ کی اس ریلیف ایجنسی کو اپنی فنڈنگ معطل کرنے کا اعلان کیا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے جمعے کو ایک بیان میں کہا کہ ”امریکا کو ان الزامات پر گہری تشویش ہے کہ سات اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کی جانب سے کیے گئے دہشت گردانہ حملے میں اونروا کے 12 ملازمین ملوث ہو سکتے ہیں“۔ملر کے مطابق جمعرات کو امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس کے ساتھ بات کی جس کا مقصد اس مسئلے کی تیزی سے اور گہرائی سے تحقیقات کرنے کی ضرورت پر زور دینا ہے۔ملر نے کہا کہ امریکا نے ان الزامات کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے اسرائیل سے رابطہ کیا ہے۔جبکہ امریکی محکمہ خارجہ نے فلسطینیوں کی مدد میں اونروا کے اہم کردار کا حوالہ دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے ادارے کی ان الزامات کا جواب دینے اور کوئی مناسب اقدام کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔جمعہ کو ’اونروا‘ نے اپنے کئی ملازمین کے کنٹریکٹ ختم کرنے کا اعلان کیا، جن پر اسرائیلی حکام نے حماس کے حملے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔اونروا کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی حکام نے اونروا کو اس کے متعدد ملازمین کے حملوں میں ملوث ہونے کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہانسانی امداد فراہم کرنے کی ایجنسی کی صلاحیت کے تحفظ کے لیے میں نے ان ملازمین کے کنٹریکٹس کو فوری طور پر ختم کرنے اور بغیر کسی تاخیر کے سچ ثابت ہونے تک تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے یاد دلایا کہ غزہ میں 20 لاکھ سے زیادہ لوگ جنگ کے آغاز سے ایجنسی کی طرف سے فراہم کردہ اہم امداد پر انحصار کر رہے ہیں۔ جو کوئی بھی اقوام متحدہ کی بنیادی اقدار سے غداری کرتا ہے وہ ان لوگوں سے بھی غداری کرتا ہے جن کی ہم خدمت کرتے ہیں“۔
