نئی دہلی، 18 دسمبر (ہ س)۔ پیر کو بھی سکیورٹی میں لاپروائی کے معاملے پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی ہنگامہ خیز رہی۔ اس دوران لوک سبھا کے اسپیکر نے ہنگامہ پر کہا کہ احاطے کا دائرہ اختیار پارلیمنٹ کا ہے اور جہاں بھی ضرورت ہوگی حکومت سے تعاون لیا جائے گا۔ انہوں نے ایوان کو چلنے دینے میں اپوزیشن سے تعاون طلب کیا۔
لوک سبھا کی کارروائی شروع ہوئی تو اپوزیشن ارکان پلے کارڈ کے ساتھ ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اور ہنگامہ آرائی شروع کردی۔ اس دوران اسپیکر اوم برلا نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ پارلیمنٹ کمپلیکس کی حفاظت کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے اور انہوں نے اس معاملے پر تمام جماعتوں کے قائدین سے بات چیت کی ہے اور اس سلسلے میں مناسب اقدامات کئے جائیں گے۔ جہاں بھی تعاون کی ضرورت ہوگی حکومت سے تعاون لیا جائے گا۔ ایسے واقعات ماضی میں بھی ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس بار بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں بحث ہوئی ہے کہ کوئی رکن ایوان میں پلے کارڈ نہیں لائے گا۔ بڑھتے ہوئے ہنگامے کو دیکھتے ہوئے کارروائی 12 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ پارلیمانی امور کے وزیر نے بھی اپوزیشن سے تعاون کی اپیل کی اور کہا کہ یہ لوک سبھا کا آخری مکمل اجلاس ہے اور بہت زیادہ قانون سازی کا کام باقی ہے۔ اپوزیشن تعاون کرے اور ایوان کو چلنے دیں۔
راجیہ سبھا میں کاغذات رکھنے کا عمل مکمل ہونے کے بعد اپوزیشن کے ہنگامہ آرائی کی وجہ سے کارروائی ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ چیرمین جگدیپ دھنکڑ نے کہا کہ انہوں نے کچھ ممبران کا نامناسب رویہ دیکھا ہے اور وہ اسے برداشت نہیں کر سکتے۔ راجیہ سبھا کی کارروائی پہلے ساڑھے گیارہ بجے اور پھر دوپہر دو بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
ہندوستھان سماچار
