نئی دہلی ،یکم دسمبر(ہ س )۔
شاہی امام مسجد فتحپوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد صاحب نے آج نماز جمعہ سے قبل خطاب میں کہا کہ دنیا فانی ہے اور دنیاوی لہوو لعب میں اللہ کی ناراضگی ہے مسلمان نیک اعمال کی پابندی کریں ۔
انہوںنے صہیونی بربریت اور اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے حماس کے حسن اخلا ق کی تعریف کی ۔انہوں کہا کہ اسرائےل کا وزیر اعظم غزہ پر پوری طاقت سے حملے کرنے کا عندیہ ظاہر کر رہا ہے عارضی جنگ بندی کے دوران بھی وہ نہتے فلسطینیوںپر حملے کر رہا ہے ۔کئی فلسطینی اس دوران شہید بھی ہوگئے اوربڑی تعداد میںمغربی کنارہ سے فلسطینی گرفتاربھی کرلئے گئے ، بڑے افسوس کی بات ہے کہ صہیونی ظالم اپنے حملوں میں شدت لانے کے بیانات برابر دے رہا ہے لیکن مسلم ملکوں کی طرف سے کوئی بھی کارروائی سامنے نہیں آئی ۔۷۵ملکوں کے رہنما ایک ظالم کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں غیر ت ایمانی کا تقاضہ ہے کہ مسجد اقصی کے تقدس اور نہتے عوام کی حفاظت کےلئے مسلم ممالک مو ثر اقدام کریں ۔دو ریاستی پُرامن حل کےلئے اوار نہتے عام شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے لئے عالمی برادری اوریو این او صیہونی وزیر اعظم کو ظلم و تشدد سے باز رکھیں نیز غزہ کے ہسپتالوں اور پناہ گزیں کیمپوں کی حفاظت کےلئے آواز اٹھائیں ۔اگر مسلم ممالک نے مظلوموں کا ساتھ نہیں دیا توتاریخ انہےں معاف نہیں کرے گی۔
مفتی مکرم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اتراکھنڈ میں زیر تعمیر سرنگ میں پھنسے ہوئے ۱۴مزدوروں کو ۷۱روز بعد حفاظت کے ساتھ نکالنے والے مشتاق قریشی اور ان کی ٹیم کو ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت انعام دینے کا اعلان کرے اور سرکاری سہولتےں انہےں فراہم کی جائےں۔انہوںنے کہاکہ اس حادثہ سے قومی یک جہتی او ر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو تقویت ملی ہے جو لوگ بھارت میں نفرت پھیلا کر ایک مخصوص فرقہ کو بدنام کرتے ہیں وہ ہرگز کامیاب نہیں ہوں گے ۔ ان شاءاللہ
ہندوستھان سماچار/عطاءاللہ
