بھوپال، 28 نومبر (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے بالاگھاٹ میں پیر کو بیلٹ پیپر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا معاملہ سامنے آیا۔ اس کے بعد سے اس معاملے پر سیاست گرم ہو گئی ہے۔ نوڈل افسر ہمت سنگھ کو معطل کر دیا گیا ہے۔ اس کے بعد بھی معاملہ ٹھنڈا نہیں ہوا۔ کانگریس ضلع کلکٹر کی معطلی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اس پورے معاملے پر بیان بازی اور الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔
اس دوران سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے ریاستی صدر کمل ناتھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر پوسٹ کیا اور افسران اور ملازمین سے کہا کہ وہ فی الحال الیکشن کمیشن کے تحت کام کر رہے ہیں۔ اس لیے کوئی غیر قانونی کام نہ کریں۔
کمل ناتھ نے سوشل میڈیا ایکس پر ٹویٹ کیا اور کہا کہ شفافیت اور ایمانداری جمہوریت کے بنیادی اصول ہیں۔ بالاگھاٹ میں کل جس طرح پوسٹل بیلٹ کھولے گئے وہ بہت بری حرکت ہے۔ اس کے بعد حکومتی مشینری اور ذمہ دار اہلکاروں نے جس طرح اس ایکٹ کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کی وہ اس سے بھی زیادہ ناقابل معافی جرم ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں انتخابی عمل میں شامل تمام افسران اور ملازمین کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ اس وقت وہ الیکشن کمیشن کے تحت کام کر رہے ہیں جو کہ مدھیہ پردیش حکومت سے الگ ایک خود مختار ادارہ ہے۔ فی الحال وہ کسی پارٹی یا وزیر کے ماتحت کام نہیں کر رہے۔ لہٰذا تمام افسران و ملازمین سے گزارش ہے کہ وہ کسی بھی غیر آئینی یا غیر قانونی حکم پر عمل نہ کریں اور صرف وہی کام کریں جو ان کی انتظامی ذمہ داری ہے۔ ہر افسر اور ملازم کی کام کاج کی رپورٹ عوام کے سامنے ہے۔
کمل ناتھ نے کہا کہ میں کانگریس کارکنوں سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے آئینی حقوق کے لیے سخت ترین جدوجہد کے لیے تیار رہیں۔ 3 دسمبر کو عوام مدھیہ پردیش میں کانگریس کی حکومت کو منظوری دیں گے۔ اس لیے انہیں چاہیے کہ وہ بغیر کسی تنازعے کے اپنے کام میں لگ جائیں۔ ستیہ میو جیتے۔
ہندوستھان سماچار//سلام
