رانچی، 28 نومبر (ہ س)۔
چین میں پھیلتی پراسرار بیماری کے پیش نظر مرکزی حکومت کے محکمہ صحت نے تمام ریاستوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی ہے۔ کورونا کی طرح اس بیماری کے پھیلنے کا خدشہ ہے۔ ان تمام امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے رانچی میں محکمہ صحت نے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ رانچی ضلع کے بلاک سطح کے اسپتالوں کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے، تاکہ مریض کی حالت نارمل ہو تو اسے صرف سی ایچ سی اور پی ایچ سی میں ہی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
رانچی کے سول سرجن ڈاکٹر پربھات کمار نے منگل کو کہا کہ ریمس اور صدراسپتال کو اعلیٰ مراکز کے طور پر رکھا جائے گا۔ مریضوں کی تعداد بڑھنے پر دیگر مقامات پر بھی انتظامات کیے جائیں گے۔ سول سرجن کا کہنا تھا کہ کورونا کے دوران لگائے گئے آکسیجن پلانٹ اور مائع میڈیکل آکسیجن پلانٹ کو بھی استعمال کیا جائے گا۔ مناسب مقدار میں آکسیجن سلنڈر بھی رکھے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت میں اب تک ایسا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ تاہم، لوگوں کو نمونیا کے بارے میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
ریمس کے سینئر ڈاکٹر اور ماہر امراض اطفال ڈاکٹر یوپی ساہو نے کہا کہ نمونیا میں چھوٹے بچوں کا خاص خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نمونیا ایک سے پانچ سال کی عمر کے بچوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ کیونکہ ایسے بچے کھل کر اپنے مسائل کا اظہار نہیں کر پاتے۔ ایسے میں والدین کو یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ اگر کسی چھوٹے بچے کو نزلہ و زکام کے ساتھ بخار ہو اور ماں کا دودھ پینا چھوڑ دیا ہو تو فوراً قریبی ڈاکٹر کے پاس لے جائیں۔
یوپی ساہو نے کہا کہ اگر کسی چھوٹے بچے کو سانس لینے میں دشواری ہو، جسم نیلا دکھائی دے یا اسے تیز بخار ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں کیونکہ نمونیا طویل عرصے تک خطرناک ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کی سطح پر ابھی تک کوئی ہدایت نامہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔ ایسے کیسز بھی ابھی تک اسپتال نہیں پہنچے لیکن ڈاکٹروں کی ٹیم نمونیا کے معاملے میں سنجیدہ ہے۔
ہندوستھان سماچار
