کولکاتا، 19 نومبر (ہ س)۔ مغربی بنگال کے مشہور راشن تقسیم بدعنوانی معاملے کی تحقیقات کر رہی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) مسلسل نئے انکشافات کر رہی ہے۔ اس معاملے میں گرفتار ریاست کے سابق وزیر خوراک اور موجودہ وزیر جنگلات جیوتی پریہ ملک سے پوچھ گچھ اور تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ انہوں نے راشن کی تقسیم میں بدعنوانی کے بعد حاصل کی گئی رقم کی منتقلی کے لیے اپنے رشتہ داروں کے کھاتوں کا استعمال کیا ہے۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنی ساس اور سالے کے اکاؤنٹس کے ذریعے رقوم کی منتقلی کی ہے۔
اس سے پہلے ای ڈی نے بتایا تھا کہ وزیر کی بیوی اور بیٹی کے بینک کھاتوں کا بھی اسی مقصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ ای ڈی کے ایک اہلکار نے کہا کہ مرکزی ایجنسیوں کو یہ بھی خاص لیڈز موصول ہوئی ہیں کہ ان کے بینک اکاؤنٹس کو فنڈ ڈائیورشن کے لیے استعمال کرنے کے علاوہ، وزیر کی ساس اور سالے کو 10 شیل کارپوریٹ اداروں میں سے تین میں کچھ عرصے کے لیے ڈائریکٹر بنایا گیا تھا۔ جن کمپنیوں میں وزیر کے سسرال والوں کو ایک مقررہ مدت کے لیے ڈائرکٹر بنایا گیا تھا وہ بنیادی طور پر کولکاتا کے تاجر بکیب الرحمان سے جڑے ہوئے تھے، جنہیں ای ڈی نے راشن تقسیم کے معاملے میں گرفتار کیا تھا۔ تین مشکوک کارپوریٹ ادارے جہاں وزیر کی ساس اور سالے ڈائریکٹر تھے وہ ہیں شری ہنومان ریئلکون پرائیویٹ لمیٹڈ، گریشس انوویٹیو پرائیویٹ لمیٹڈ اور گریسس کریشن پرائیویٹ لمیٹڈ۔
ای ڈی کے مطابق، یہ تینوں اداروں کو محدود وقت کے لیے فنڈ کی منتقلی کے واحد مقصد کے ساتھ بنایا گیا تھا۔ رجسٹرار آف کمپنیز (آر او سی) کے ریکارڈ کے مطابق، شری ہنومان ریئلکون اور دیگر دو ادارے بندہوچکے ہیں۔ ای ڈی کے نتائج کے مطابق، 23 کروڑ روپے کے گھوٹالے کی آمدنی کو تین شیل کارپوریٹ اداروں کے ذریعے ڈائیورٹ کیا گیا تھا۔
ہندوستھان سماچار//سلام
