ادے پور، 10 نومبر (ہ س)۔سالومبر کے ڈھکیہ کے بور پھلا میں جمعرات کی رات بجلی کا کرنٹ لگنے سے ایک ہی خاندان کے چار افراد کی موت ہو گئی۔ اس سے خوشیوں کا تہوار دیوالی ماتم میں بدل گیا۔ حادثہ لوہے کے دروازے میں بجلی کا جھٹکا لگنے سے پیش آیا۔ اب خاندان میں صرف ایک خاتون اور ایک شیر خوار بچی ہی زندہ رہ گیے ہیں۔ چاروں لاشیں لساڑیہ سی ایچ سی کے مردہ خانہ میں رکھ دی گئی ہیں۔ دیر رات کلکٹر پرتاپ سنگھ سمیت اعلیٰ حکام نے جائے وقوعہ کا جائزہ لیا۔ جمعہ کو لواحقین کی رپورٹ آنے کے بعد تمام کا پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔
ڈھکیہ کے بور پھلا گاو¿ں میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے حادثہ پیش آنے سے پہلے اونکار مینا کا خاندان سونے کی تیاری کر رہا تھا۔ اس دوران گھر میں اونکار، بیوی بھامری، بیٹا دیوی لال، بیٹی مانگی کے ساتھ دیوی لال کی بیوی سیما اور دیوی لال کی ڈیڑھ سال کی بیٹی بھی گھر میں موجود تھیں۔ سیما اپنے سامنے خاندان کے چار افراد کی موت کا واقعہ دیکھ کر بے ہوش ہوگئی۔ اس سے پہلے وہ گھر والوں کو بچانے کے لیے مدد کے لیے چلاتی رہی۔ اس کے شور مچانے پر آس پاس کے گاوں والے اور راہگیر بھاگ کر موقع پر پہنچ گئے۔ سب سے پہلے سب نے بجلی کی سپلائی بند کر دی اور گھر کے اندر سے بے ہوشی کی حالت میں سیما اور اس کی ڈیڑھ سالہ بیٹی کو باہر نکالا۔
ایک ہی خاندان کے چار افراد کی موت کے واقعے کے بعد اونکار کے خاندان میں صرف بہو سیما اور ڈیڑھ سالہ پوتی رہ گئی ہے۔ اونکار کے خاندان میں کل چھ افراد تھے جن میں بیوی بھامری، بیٹا دیوی لال، بیٹی مانگی، بہو سیما اور پوتی شامل ہیں۔ گاوں والوں نے بتایا کہ متوفی خاندان کا گھر چندا جی کا گوڈا روڈ پر واقع تھا، جو ڈھکیہ گاوں سے صرف 300 میٹر دور ہے۔
سرپنچ پونم چند مینا نے کہا کہ اس واقعے کے بعد سیما کے پاس اب صرف اپنی ڈیڑھ سال کی بیٹی کا سہارا ہے جس کے سہارے وہ اپنی زندگی گزار سکے ۔ ان کے خاندان کی مالی حالت بہت کمزور ہے۔ یہ خاندان کھیتی باڑی اور مزدوری کر کے اپنا گزر بسر کر رہا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس واقعے کے بعد سیما کو مالی بحران اور خاندان میں روزی روٹی کے بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ ماضی میں بھی خاندان کی کمزور مالی حالت کی وجہ سے یہ خاندان مالی بحران کا شکار تھا اور غذائی تحفظ پر زندگی گزار رہا تھا۔
ہندوستھان سماچار
