ممبئی، 20 اکتوبر (ہ س)۔ ممبئی کی ہوا کا معیار دن بہ دن خراب ہوتا جا رہا ہے۔ میٹروپولیس میں بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے ہوا کے معیار کا انڈیکس 120اے کیو آئی سے تجاوز کر گیا ہے یعنی خراب حالت میں پہنچ گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں ہوا کا معیار 180 اے کیو آئی سے تجاوز کر سکتا ہے۔ ایسے میں لوگوں کو اپنی صحت کا خیال رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ دوسری جانب اکتوبر کی گرمی لوگوں کو پریشان کر رہی ہے۔ ممبئی میں بڑھتا ہوا درجہ حرارت لوگوں کو مئی اور جون کی گرمی کا احساس دلا رہا ہے۔
ممبئی میں سب سے زیادہ آلودہ ہوا وِلے پارلے میں ریکارڈ کی گئی ہے۔ وِلے پارلے میں ہوا کا معیار 179 اے کیو آئی ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جبکہ نیوی نگر 38 کے اے کیو آئی کے ساتھ بہتر حالت میں ہے۔ یہاں زیرو پی ایم 2.5 اور پی ایم 10 صفر ریکارڈ کیا گیا۔ باندرہ- 107، بی کے سی-139، کولابہ-155، مزگاو¿ں- 151، ورلی- 151، ساین- 164، کرلا144-، پوئی- 156، ملاڈ- 134، بھانڈوپ- 151، جوہو- 178، دیونار- 147اور 74 میں بوریولی میں158 اے کیو آئی درج ڈ کیا گیا، میٹروپولیس میں اوسط پی ایم 2.5 اورپی ایم 10 کی سطح 38 سے 291 کے درمیان ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین موسمیات کے مطابق آنے والے دنوں میں ممبئی میں ہوا کا معیار 180 اے کیو آئی کو عبور کر سکتا ہے۔ ہم گاڑیوں کے دھوئیں اور زیر تعمیر منصوبوں کی وجہ سے آلودہ ہو رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی آلودگی اور خشک موسم کے باعث مٹی کے ذرات زمینی سطح پر آرہے ہیں جس کے باعث شہر میں صبح و شام دھند کی تہہ نظر آرہی ہے۔
اکتوبر کی گرمی سے لوگ بھی پریشان ہیں۔ ممبئی کے مضافاتی علاقوں میں گرمیوں کا درجہ حرارت 36 ڈگری سیلسیس کو پار کر گیا ہے۔ کولابا میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33.5 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جبکہ سانتا کروز میں یہ 36.1 ڈگری سیلسیس رہا۔ ماتھیران جیسے پہاڑی علاقوں میں بھی پارہ 32 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا ہے۔ تھانے-بیلاپور صنعتی علاقے میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35.2 ڈگری سیلسیس رہا۔ گرمی اور نمی کی وجہ سے لوگ پسینے سے تر ہو رہے ہیں۔ رات کے وقت بھی گرمی لوگوں کو پریشان کر رہی ہے۔
ممبئی میں ہوا کے بگڑتے معیار کی وجہ سے ماسک کے استعمال پربی ایم سی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اس سلسلے میں شہریوں سے کوئی اپیل نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی کوئی رہنما خطوط جاری کیے گئے ہیں۔ ہوا کا معیار خراب ہونے کا پتہ لگانے کے بعد حکومت کے متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر کارروائی پر غور کیا جا رہا ہے۔ محکمہ موسمیات اور تمام متعلقہ نظاموں سے موصول ہونے والی ہدایات کے مطابق مناسب اقدامات اور فیصلے کیے جائیں گے۔
ہندوستھان سماچار
