لکھنو، 30 اکتوبر ( ہ س)۔ اس ورلڈ کپ میں پہلی بار ہندوستان کو لکھنو کی ایک مشکل پچ پر انگلینڈ کے خلاف ہدف کا تعاقت کرنا پرا۔ وکٹوں کے مسلسل گرنے سے ہندوستان مشکل میں پڑ گیا لیکن روہت شرما کے 87 رنوں کی بدولت ٹیم انڈیا9 وکٹوں پر 229 رن بنانے میں کامیاب ہو سکی ۔
ٹیم کے کپتان اور میچ کے بہترین کھلاڑی روہت شرما کے مطابق ان کے لیے یہ ضروری تھا کہ وہ اپنے تمام تجربے کو چیلنجنگ پچ پر استعمال کریں اور صورتحال کے مطابق بلے بازی کریں۔
روہت نے میچ کے بعد کہا، ”یہ صرف میرے شاٹس کھیلنے کے بازے میں نہیں ہے، جب آپ کے پاس اتنا تجربہ ہوتا ہے تو آپ کو اس تجربے کا استعمال کرنا ہو تا ہے اور ٹیم کے لیے جو بھی ضروری ہے وہ کرنا ہوتا ہے ، اور اس وقت میرے لیے کھیل کو آگے لے جا نا ضروری تھا۔
اس میچ میں ایک وقت ہندوستان نے صرف 40 رن پر تین وکٹیں گنوا دی تھیں، لیکن یہاں سے روہت اور کے ایل راہل نے چوتھی وکٹ کے لیے 91 رنوں کی شراکت داری قائم کی اور پھر سوریہ کمار یادیو کے ساتھ شراکت میں مزید 33 رن جوڑے، لیکن روہت سنچری سے محض 13 رن دور رہ گئے۔ وہاں سے انگلینڈ نے تھوڑے تھوڑے وقفے پر دو وکٹیں حاصل کیں اور ہندوستان کو 9 وکٹ پر 229 تک محدود کردیا۔
روہت نے کہا،”مجھے اب بھی ایسا لگ رہا تھا کہ ہم میچ کے اختتام پر 20-30 رن پیچھے رہ گئے ۔ نئی گیند تھوڑی چیلنجنگ تھی اور پھر ظاہر ہے جیسے جیسے کھیل آگے بڑھتا گیا، گیند نرم ہوتی گئی۔ اسٹرائیک کو روٹیٹ کرنا آسان نہیں تھا۔ لیکن ہم نے درمیان میں اسٹرائیک کو روٹیٹ کرنا جاری رکھا اور پھر آخر کار، آپ جانتے ہیں کہ ہمیں وہاں اچھی پارٹنرشپ ملی، لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ ہم آخر تک 20-30 رنز پیچھے رہ گئے۔“
حالات کے باوجود، روہت نے کہا کہ ہندوستان کے کچھ مسائل ان کے بلے بازوں کے ڈھیلے پن پر آئے۔ شبھمن گل کو کرس ووکس نے اچھی گیند پر بولڈ کیا اور پھر وراٹ کوہلی اور شریس ایئر خراب شاٹس کھیلنے کے بعد آوٹ ہوئے۔
روہت نے کہا،”آج ہم بلے سے اچھے نہیں تھے، پہلے پاور پلے میں تین وکٹ کھونا کوئی مثالی صورت حال نہیں ہے، لیکن جب آپ ایسی حالت میں ہوں تو آپ صرف لمبی پارٹنر شپ بنانا چاہتے ہیں، جو ہمیں مل گئی لیکن پھر آخر میں ہم نے کچھ غلطیاں کیں۔ مجموعی طور پر، میں نے سوچا کہ ہم وہاں سے 30 رنز پیچھے ہیں۔“
حالانکہ ہندوستانی تیز گیند بازوں نے شاندار گیند بازی کی اور 229 رن کا کامیابی سے دفاع کیا۔ تیز گیند باز محمد شامی اور جسپریت بمراہ نے ابتدائی وکٹیں لے کر انگلینڈ سے فتح چھین لی۔
روہت نے تیز گیند بازوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا، ”ہمارے سیمرز کے پاس اب جو تجربہ ہے، آپ جانتے ہیں کہ آپ ہمیشہ بھروسہ کر سکتے ہیں اور اس پر بھروسہ کر سکتے ہیں کہ وہ اچھی کارکردگی دکھا سکتے ہیں اور آپ کو اہم کامیابیاں دلا سکتے ہیں اور بالکل یہی ہمارے سیمرز نے کیا۔ انہوں نے حالات کا خوب فائدہ اٹھایااورمجھے لگا کہ انہوں نے بلے بازوں کے ذہنوں میں شک پیدا کرنے کے لیے صحیح جگہوں پر گیند کو نشانہ بنایا۔“
میچ کے بعد کی پریزنٹیشن میں مائیکل ایتھرٹن سے یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ہندوستان کا اٹیک ٹورنامنٹ میں بہترین تھا، روہت نے کہا، ہمارے پاس اچھا توازن ہے، کچھ اچھے اسپنرز اور سیمرز کو ان حالات میں کھیلنے کا کافی تجربہ ہے۔ ہاں!اگر میں گیندبازی کے حوالے سے میرے پاس موجود مجموعی آپشنز کو دیکھتا ہوں ، تو بہت کچھ اور تجربہ کے ساتھ ہے۔“
ہندوستانی ٹیم اب اپنے اگلے میچ میں 2 نومبر کو سری لنکا سے ٹکرائے گی۔
ہندوستھان سماچار
