ادے پور، 22 اکتوبر (ہ س)۔ بی جے پی کی دوسری فہرست میں ادے پور شہر اسمبلی حلقہ سے تاراچند جین کو امیدوار قرار دینے کے ساتھ ہی ادے پور کے ڈپٹی میئر پارس سنگھوی نے بغاوت کا بگل بجا دیا ہے۔ ہفتہ کی شام میرا کمیونٹی ہال میں اپنے حامیوں کے ساتھ ایک میٹنگ میں انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ ادے پور کے سابق ایم ایل اے اور آسام کے موجودہ گورنر گلاب چند کٹاریہ آسام میں بیٹھ کر ادے پور کی سیاست کو آلودہ کر رہے ہیں۔
میڈیا کو دیے گئے اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پارٹی میں مسلسل سرگرم اور شہر کے مسائل کے لیے جدوجہد کرنے والے کارکن کو درکنار کئے جانے سے عام کارکن بھی دکھی ہے۔ سنگھوی نے کہا کہ وہ تنظیم کے اعلیٰ عہدیداروں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ادے پور اسمبلی حلقہ میں امیدوار کے انتخاب پر نظر ثانی کریں اور عام کارکنوں کے جذبات کا احترام کریں۔ حالانکہ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ آیا وہ آزاد حیثیت سے الیکشن لڑیں گے یا نہیں لیکن ان کا لہجہ بغاوت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ میڈیا کے سامنے ان کے بیان کے بعد ادے پور بی جے پی کے سیاسی مساوات میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پارس سنگھوی ڈٹے رہتے ہیں یا سمجھانے کے بعد راضی ہوجاتے ہیں۔ اگر وہ ثابت قدم رہتے ہیں تو یہ یقینی ہے کہ بی جے پی کو ادے پور میں مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ادھر یہ بات سامنے آئی ہے کہ سنگھوی کے حامیوں نے اتوار کو انشن کے ذریعے اپنے احتجاج کا پیغام دیا۔
ہندوستھان سماچار//سلام
