نئی دہلی،22دسمبر(ہ س)۔
شاہی امام مسجد فتحپوری دہلی مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے آج نماز جمعہ سے قبل خطاب میں مسلمانوں سے پر زور اپیل کی کہ نوجوانوں کی تعلیم وتربیت کی طرف خصوصی دھیان دیں چونکہ سالانہ امتحانات قریب ہیں ۔انہوںنے فلسطینی عام شہریوں ، بچوں اور خواتین پر وحشیانہ حملوں کی شدید مذمت کی اور گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ۔انہوں نے کہاکہ صہیونی جارحیت اور بربریت مسلسل جاری ہے ہرر وز عام شہریوں کی شہادت کی خبریں آرہی ہیں۔ سارے اسپتال مفلوج ہیں، امدادی کام پر صہیونی حکومت نے پابندی لگا رکھی ہے ۔
خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کے ساتھ کچھ دوسرے ملکوں کے فوجی بھی شریک ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بحیرہ احمر میں امریکہ نے کچھ مغربی اور یوروپی ملکوں کے ساتھ مل کر ایک ٹاسک فورس اتارنے کا فیصلہ کیا ہے امریکی ٹاسک فورس میں مسلم ملکوں کو شامل نہیں ہونا چاہئے اور امریکہ کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے ۔امریکہ کی وجہ سے نہتے بے قصور شہریوں کا قتل اور فلسطینیوں کی نسل کشی ہو رہی ہے ۔ملیشیا نے اسرائیل کےلئے اپنی بندر گاہ بند کی ہے اسی طرح دوسرے مسلم ملکوں کو بھی ایکشن لینا چاہئے ، ہمارا پرزور مطالبہ ہے کہ جنگ بندی کرائی جائے ۔
مفتی مکرم نے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کی پامالی روز بروز بڑھتی جارہی ہے جو قابل افسوس ہے اسی ہفتہ ” یوم اقلیت “ منایا گیا او ر اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی بات کی گئی ۔قومی اقلیتی کمیشن کے دفتر میں اس مو قع پر پروگرام منعقد کیا گیا ۔قومی اقلیتی کمیشن کے چیر مین اقبال سنگھ لال پورا نے اس پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کی فلاح و بہودی کےلئے 240 سرکاری اسکیمیں چلائی جارہی ہیں ۔انہوںنے کہا کہ اقلیتی اور اکثریتی دونوں طبقے کے عوام مل کر ملک کی ترقی کےلئے کام کریں تبھی بھارت دنیا کا نمبر 1ملک بنے گا ۔مفتی مکرم نے مطالبہ کیا 240 فلاحی اسکیموں سے اقلیتوں کو واقف کرایا جائے ۔اخبارات میں اور میڈیا میں ان کی تشہیر کی جائے جو اسکالر شپ بند کی گئی ہے وہ دوبارہ سے شروع کی جائے ۔انہوںنے کہا کہ1991کے ورشپ پلےسز ایکٹ پر عمل کرتے ہوئے گیان واپی مسجد اور شاہی عید گاہ متھرا اور دیگر مساجد کو تحفظ فراہم کیا جائے اور اقلیتوں کے جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے ۔
ہندوستھان سماچار
