جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ریاست کے درجہ کی بحالی کے حوالے سے اپنی حکومت کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بجٹ پیش کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یونین ٹیریٹری کے ساتھ اسمبلی کا وجود ایک بدترین شکل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ریاستی درجہ بحال کرنے کے لیے ایک مخصوص وقت کے تعین پر کام کر رہے ہیں، لیکن اس مرحلے پر اس پر تفصیل سے بات کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن سے ملاقاتوں کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔
BulletsIn
- عمر عبداللہ نے ریاست کا درجہ بحال کرنے کے لیے وقت مقرر کرنے پر کام کرنے کا اعلان کیا۔
- ان کا کہنا تھا کہ یونین ٹیریٹری کے ساتھ اسمبلی کی موجودگی بدترین طرز حکومت ہے۔
- انہوں نے واضح کیا کہ یا تو کوئی علاقہ یونین ٹیریٹری ہونا چاہیے یا مکمل ریاست۔
- ان کا موقف تھا کہ یونین ٹیریٹری کا تصور جموں و کشمیر پر لاگو نہیں ہوتا۔
- ریاست کو مرکزی حکومت سے ملنے والے فنڈز پر انہوں نے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دستیاب وسائل کا بہترین استعمال کریں گے۔
- وزیر اعلیٰ نے مزید فنڈز کے مطالبے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ جو ملا ہے، اس پر قناعت کریں گے۔
- انہوں نے کہا کہ حکومت یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں (ڈیلی ویجرز) اور نیڈ بیسڈ ورکرز کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
- سب سے پہلے ان مزدوروں کی صحیح تعداد معلوم کی جائے گی، کیونکہ مختلف جگہوں پر مختلف اعداد و شمار دیے جا رہے ہیں۔
- حتمی تعداد معلوم ہونے کے بعد ہی ان کے مستقبل کے لیے کوئی پالیسی بنائی جائے گی۔
- حکومت اس معاملے پر سنجیدگی سے کام کر رہی ہے تاکہ مزدوروں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
