ایم ایل سی ڈاکٹر خالد انور نے اتوار کو گیوت رام اسٹیڈیم میں منعقد جلسے میں جے ڈی یو امیدوار سنیل کشواہا کی حمایت میں خطاب کرتے ہوئے آر جے ڈی اور لالو یادو کی مسلمانوں کے ساتھ کی گئی ناانصافیوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے نتیش کمار کی حکومت کی مسلمانوں کے حق میں کی گئی خدمات کا بھی ذکر کیا اور 2024 کے انتخابات میں مسلمانوں سے جے ڈی یو کو ووٹ دینے کی اپیل کی۔
BulletsIn
- آر جے ڈی اور مسلمانوں کا تعلق: ڈاکٹر خالد انور نے بتایا کہ 1990 میں بہار کے مسلمانوں نے لالو یادو کو اپنا مسیحا مانا اور آر جے ڈی کی حمایت کی۔
- بھاگلپور دنگا: بھاگلپور دنگے میں مسلمانوں کے قتل عام اور جائیداد کی لوٹ مار کے بعد مسلمانوں نے کانگریس چھوڑ کر لالو یادو کا ساتھ دیا۔
- لالو یادو کی ناانصافیاں: لالو یادو نے مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کی بجائے دنگائیوں کو سزا نہیں دی اور 15 سال تک کسی دنگائی کے خلاف مقدمہ نہیں کیا۔
- نتیش کمار کی انصاف پسندی: 2005 میں نتیش کمار نے حکومت سنبھالی تو بھاگلپور دنگے کی جوڈیشیل انکوائری کرائی اور دنگائیوں کو جیل بھیجا۔
- متاثرین کی مدد: نتیش کمار نے بھاگلپور دنگے کے متاثرین کو پنشن دینا شروع کیا اور آر جے ڈی کے قبضے والی زمینیں واپس دلائیں۔
- مسلم قیادت کی کمی: لالو یادو نے مسلم قیادت کو ختم کیا، جس کی وجہ سے آج بہار میں مسلم نمائندگی کم نظر آتی ہے۔
- نتیش کمار کی خدمات: نتیش کمار نے مسلمانوں کو ان کے حقوق دلائے، شریعت، وراثت اور بقا کے تحفظ کے لئے کام کیا۔
- انتخابی اپیل: ڈاکٹر خالد انور نے 2024 کے انتخاب میں نتیش کمار کے امیدوار کو ووٹ دینے کی اپیل کی۔
- ریاستی وزراء کی حمایت: ریاستی وزیر شرون کمار اور زماں خان نے بھی جے ڈی یو امیدوار سنیل کشواہا کو ووٹ کرنے کی اپیل کی۔
- مقامی لیڈران کی موجودگی: جلسے میں اسلم حقی خان، احسان خان، محمد اکرم، آفتاب عالم، ساجد انور، انصار الحق، خورشید، جمیل احمد، ذو الفقار اعظم اور محمد اظہار سمیت کئی مقامی لیڈران موجود تھے۔
