جموں و کشمیر حکومت نے حالیہ اسمبلی اجلاس کے دوران انکشاف کیا ہے کہ یونین ٹریٹری میں لاکھوں کنال سرکاری اور چراگاہی اراضی غیر قانونی قبضے میں ہے۔ ایک تحریری جواب میں وزیر انچارج نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ بے دخلی مہمات کے ذریعے زمین واگزار کرانے کے ساتھ ساتھ، زمین کے استعمال میں تبدیلی کی درخواستوں کو بھی منظور کیا جا رہا ہے تاکہ خطے میں صنعتی، تجارتی اور رہائشی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
BulletsIn
-
جموں و کشمیر میں 4 لاکھ 28 ہزار 204 کنال اور 13 مرلہ سرکاری و چراگاہی اراضی غیر قانونی قبضے میں ہے۔
-
اسمبلی اجلاس میں ایم ایل اے فاروق احمد شاہ کے سوال کے جواب میں یہ انکشاف سامنے آیا۔
-
غیر قانونی قابضین کے خلاف سخت کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
-
غیر قانونی قابضین کے نام پر درج زمین کے تمام اندراجات کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔
-
حکومت کی جانب سے مسلسل خصوصی بے دخلی مہمات جاری ہیں۔
-
اب تک زمین کے استعمال میں تبدیلی کی 3,555 درخواستیں منظور کی گئی ہیں۔
-
ان درخواستوں میں تجارتی، صنعتی اور رہائشی مقاصد شامل ہیں۔
-
40 ہزار 151 کنال اور 17.5 مرلہ اراضی محکمہ صنعت و تجارت کو منتقل کی گئی ہے۔
-
زمین کی منتقلی کا مقصد جموں و کشمیر میں صنعتی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
-
صرف گلمرگ میں 94 کنال اراضی منتقل کی گئی، جن میں ہردوبنی کی 50 کنال اور للپورہ گاؤں کی 44 کنال شامل ہیں۔
