گریٹر نوئیڈا:
دیہی علاقوں میں تعلیمی اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے Greater Noida Authority نے گریٹر نوئیڈا کے چار دیہات میں ای۔لائبریریوں کے قیام کے عمل کا آغاز کر دیا ہے۔ اتوار کو ان دیہات میں نئی عمارتوں کی تعمیر کے لیے سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ اس موقع پر مقامی دیہاتیوں کی بڑی تعداد کے ساتھ ساتھ جیور کے رکنِ اسمبلی Dhirendra Singh بھی موجود تھے۔ یہ نئی عمارتیں اُن پرانے اور خستہ حال پنچایت گھروں کی جگہ تعمیر کی جائیں گی جو کئی سال قبل بنائے گئے تھے اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث اب ناقابلِ استعمال ہو چکے ہیں۔
اس منصوبے کے تحت نوادا، برسات، گھانگھولا اور ہٹیوا دیہات میں نئی ای۔لائبریری عمارتیں تعمیر کی جائیں گی۔ حکام کے مطابق ٹینڈر کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور منتخب ایجنسی کو ورک آرڈر جاری کر دیے گئے ہیں، جس کے بعد تعمیراتی کام باضابطہ طور پر شروع ہو گیا ہے۔ گریٹر نوئیڈا اتھارٹی نے ان چار ای۔لائبریری عمارتوں کی تعمیر کے لیے چھ ماہ کی مدت مقرر کی ہے۔
اتھارٹی کے حکام نے بتایا کہ یہ منصوبہ ورک سرکل-8 کے دائرہ اختیار میں نافذ کیا جا رہا ہے۔ پہلے مرحلے میں مختلف دیہات میں مجموعی طور پر 13 ای۔لائبریریاں قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔ ان میں سے چار مقامات پر انتہائی
خستہ حال پنچایت گھروں کو منہدم کر کے ان کی جگہ مکمل طور پر نئی عمارتیں تعمیر کی جائیں گی، جبکہ باقی نو ای۔لائبریریاں اُن پنچایت گھروں کی مرمت اور تزئین و آرائش کے ذریعے قائم کی جائیں گی جو اب بھی استعمال کے قابل حالت میں ہیں۔

نئی ای۔لائبریری عمارتوں میں ایک ریڈنگ روم، ایک برآمدہ اور مردوں و خواتین کے لیے علیحدہ علیحدہ بیت الخلاء کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ عمارتوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ لائبریریوں کے مؤثر اور ہموار کام کے لیے درکار فرنیچر، میزیں، کرسیاں اور دیگر بنیادی سہولیات بھی گریٹر نوئیڈا اتھارٹی کی جانب سے فراہم کی جائیں گی۔ اس مرحلے کے منصوبے پر مجموعی طور پر تقریباً 1.12 کروڑ روپے کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے اور تمام کام مقررہ چھ ماہ کی مدت کے اندر مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
اتھارٹی کے ایک سینئر افسر نے وضاحت کی کہ گریٹر نوئیڈا اتھارٹی کے نوٹیفائیڈ علاقوں میں اب روایتی پنچایت انتخابی نظام نافذ نہیں ہے۔ اس صورتحال میں بجلی، پانی کی فراہمی، سڑکیں، اسکول اور دیگر بنیادی شہری سہولیات فراہم کرنے کی مکمل ذمہ داری اتھارٹی پر عائد ہوتی ہے۔ گزشتہ برسوں میں باقاعدہ دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث کئی دیہات کے پنچایت گھر نظرانداز ہوتے رہے اور ان کی حالت اس حد تک خراب ہو گئی کہ وہ ساختی طور پر غیر محفوظ بن گئے۔ ان مسائل کے حل اور ان عمارتوں کے بہتر اور بامقصد استعمال کو یقینی بنانے کے لیے پنچایت گھروں کو ای۔لائبریریوں میں تبدیل کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا۔

اس اقدام کو مقامی باشندوں کی جانب سے مثبت ردِعمل ملا ہے۔ دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ وہ طویل عرصے سے اپنے علاقوں میں بہتر تعلیمی اور مطالعے کی سہولیات کا مطالبہ کر رہے تھے۔ کچھ دیہات میں تو پہلے ہی عوامی تعاون سے پنچایت گھروں میں لائبریریاں چل رہی ہیں، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگر باقاعدہ انفراسٹرکچر اور سرکاری معاونت فراہم کی جائے تو ایسی سہولیات کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے اور انہیں مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
گریٹر نوئیڈا اتھارٹی کے سینئر منیجر ناگیندر سنگھ نے بتایا کہ نوادا، برسات، گھانگھولا اور ہٹیوا دیہات میں مکمل طور پر نئی عمارتیں تعمیر کی جائیں گی، جبکہ دیگر نو دیہات میں موجود پنچایت گھروں کی مرمت اور تزئین و آرائش کی جائے گی تاکہ انہیں ای۔لائبریری کے طور پر استعمال کے قابل بنایا جا سکے۔ ان نو پنچایت گھروں کی مرمت پر تقریباً 95.47 لاکھ روپے کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ مرمت مکمل ہونے کے بعد ان تمام مراکز کو جدید ای۔لائبریریوں کے طور پر چلانے کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے سے لیس کیا جائے گا۔
حکام نے مزید بتایا کہ گریٹر نوئیڈا اتھارٹی کے پورے علاقے میں ای۔لائبریری منصوبے پر کام پوری سنجیدگی اور رفتار کے ساتھ شروع ہو چکا ہے۔ جن دیہات میں پنچایت گھر ساختی طور پر مضبوط ہیں وہاں ان کی اپ گریڈیشن کی جائے گی، جبکہ جن عمارتوں کی حالت مرمت سے باہر ہے وہاں مکمل طور پر نئی عمارتیں تعمیر کی جائیں گی۔

اتھارٹی کا ماننا ہے کہ دیہی علاقوں میں ای۔لائبریریوں کا قیام تعلیم اور ڈیجیٹل آگاہی کو فروغ دینے میں نہایت اہم کردار ادا کرے گا، خاص طور پر طلبہ اور نوجوانوں کے لیے۔ مطالعے کے مواد، ڈیجیٹل وسائل اور سیکھنے کے لیے مخصوص ماحول کی فراہمی سے تعلیم کے فروغ کے ساتھ ساتھ خود مطالعے کی ثقافت کو بھی تقویت ملے گی۔
چار دیہات میں سنگِ بنیاد رکھے جانے اور تعمیراتی کام شروع ہونے کے بعد، گریٹر نوئیڈا اتھارٹی آئندہ چھ ماہ کے اندر اس اہم اور پرعزم منصوبے کے پہلے مرحلے کو مکمل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ دیہی علاقوں میں تعلیمی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی سمت اس منصوبے کو ایک اہم سنگِ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
