نئی دہلی، 19 دسمبر 2025:
ورلڈ ایسوسی ایشن فار اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (WASME) نے جمعرات کو نئی دہلی کے این بی سی سی کمرشل ٹاورز میں 29ویں بین الاقوامی اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کانفرنس (ICSME 2025) کا کامیاب انعقاد کیا۔ اس اعلیٰ سطحی کانفرنس میں بھارت اور دنیا بھر سے پالیسی سازوں، سفارت کاروں، صنعت کاروں، مالیاتی اداروں، پائیدار ترقی کے ماہرین اور ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی۔
اس کانفرنس کا موضوع تھا:
“عالمی شراکت داری کے ذریعے جامع، پائیدار اور اختراعات پر مبنی ترقی — وکست بھارت 2047 اور ایک پائیدار دنیا کے لیے ایم ایس ایم ایز کو بااختیار بنانا”۔
مباحثوں میں ایم ایس ایم ای ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے کے لیے اختراع، پائیدار مالیات، ڈیجیٹل تبدیلی، گورننس اصلاحات اور بین الاقوامی تعاون پر خصوصی توجہ دی گئی، تاکہ بھارت کے طویل المدتی وژن وکست بھارت 2047 سے ہم آہنگ ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
افتتاحی اجلاس کا آغاز روایتی چراغ روشن کرنے کی رسم سے ہوا، جس میں پانامہ کے سفارت خانے کی چارجے ڈی افیئرز محترمہ نوہیلی سالیناس گونزالیز، WASME کے صدر اور ماریشس کے سابق سفیر پروفیسر (ڈاکٹر) کے۔ سی۔ جانکی، این بی سی سی کے چیف جنرل منیجر (HRM) دیباشیش ستپتھی اور WASME کے ایگزیکٹو سیکریٹری ڈاکٹر سنجیو لایک (یونیسکو–این جی او لائژن کمیٹی کے رکن 2024–26) شریک تھے۔
اپنے خطاب میں پروفیسر کے۔ سی۔ جانکی نے عالمی شراکت داری، جنوب–جنوب تعاون اور کثیر الجہتی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایس ایم ایز اقتصادی ترقی، روزگار کے مواقع اور اختراع کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، خصوصاً ترقی پذیر ممالک میں، اور ان کی مضبوطی کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
ڈاکٹر سنجیو لایک نے WASME کے چار دہائیوں پر محیط کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اختراع پر مبنی ترقی، پائیدار کاروباری طریقے اور ذمہ دارانہ گورننس ایم ایس ایم ایز کو جامع معاشی ترقی کا مرکزی ستون بنا سکتے ہیں۔
ICSME 2025 میں متعدد اعلیٰ سطحی سیشنز اور ماہرین کی گفتگو ہوئی۔ ان میں ایک اہم سیشن تھا:
“مستقبل کی مالی اعانت: گرین کیپیٹل، بلینڈڈ فنانس اور ایم ایس ایم ایز کے لیے ESG سرمایہ کاری”
جس کی نظامت نیٹ گرین فاؤنڈیشن کے منیجنگ ایڈیٹر انور سعادت نے کی۔
اس پینل میں CEEW کی گنجن جھنجھون والا، کوٹک مہندرا بینک کے سینئر نائب صدر سی اے یوگیش موٹوانی، کیپینیٹی پارٹنرز کے شریک بانی وکاس سومانی، او ایس ای ایل ڈیوائسز کے ڈائریکٹر مکیش سنہا اور راکنگ ڈیلز سرکلر اکانومی کے بانی و سی ای او یوراج امن پریت سنگھ شامل تھے۔ گفتگو میں گرین فنانس، ESG سرمایہ کاری، بلینڈڈ فنانس اور ایم ایس ایم ایز کو عالمی ویلیو چین سے جوڑنے پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔
دیگر سیشنز میں ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (DPI)، مصنوعی ذہانت (AI)، انڈسٹری 4.0، ماحولیاتی لچک، سرکلر اکانومی اور نیٹ زیرو اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ دیہی، قبائلی، خواتین اور نوجوان کاروباریوں کو مرکزی دھارے میں شامل کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔
ICSME 2025 کی ایک نمایاں جھلک WASME گلوبل ایکسی لینس ایوارڈز 2025 تھی، جن کے ذریعے پائیدار ترقی، اختراع، سماجی اثرات، خواتین اور نوجوان کاروباری افراد اور عالمی ترقیاتی شراکت داروں کو اعزاز سے نوازا گیا۔
کانفرنس کے اختتام پر پالیسی تعاون، ممکنہ مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) اور مستقبل کی شراکت داریوں پر تفصیلی گفتگو ہوئی، جس سے پالیسی، مالیات، پائیداری اور صنعتی ترقی کے درمیان ہم آہنگی کو مزید تقویت ملی۔
اقوام متحدہ کے ساتھ مشاورتی اور مبصرانہ حیثیت رکھنے والی WASME عالمی سطح پر ایم ایس ایم ایز کی ترقی، بین الاقوامی تجارت، پائیداری اور پالیسی وکالت کے لیے سرگرم ہے۔ ICSME 2025 جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے WASME اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے کہ ایم ایس ایم ایز پائیدار اور جامع معاشی ترقی کے مرکز میں رہیں۔
