بھارت کی جموکریت کی سالمیت ایک بار پھر سوالات کی زد میں ہے۔ 7 اگست 2025 کو راہول گاندھی کی پریس کانفرنس میں بھارت کے انتخابی کمیشن (ECI) کے خلاف سنگین الزامات سامنے آئے۔ جن پانچ بڑے نکات کو انہوں نے اُٹھایا وہ صرف سیاسی الزامات نہیں تھے، بلکہ یہ ہمارے انتخابی عمل کی بنیادی بنیادوں پر ایک اہم بحث کا آغاز تھے۔ بھارت کے نوجوانوں کے لیے یہ محض ایک اور سیاسی ڈرامہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک فوری یاد دہانی ہے کہ وہ ملک کے مستقبل کو تشکیل دینے میں کتنی طاقت اور ذمہ داری رکھتے ہیں۔
BulletsIn
-
ووٹروں کی فہرست میں بے قاعدگیاں:
راہول گاندھی نے اپنے خطاب میں سب سے پہلے ووٹر لسٹ کی بے قاعدگیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ پتے پر 46 ووٹرز تک رجسٹرڈ تھے۔ انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ انتخابی کمیشن ووٹر لسٹ کا الیکٹرانک ڈیٹا کیوں نہیں جاری کرتا، اس کا کہنا تھا کہ اس ڈیٹا سے نقل ووٹرز کے مسئلے کا پتہ چل سکتا ہے۔ -
شفافیت کی ضرورت:
ایک جموکری معاشرت میں شفافیت صرف ایک قدر نہیں، بلکہ یہ وہ بنیاد ہے جس پر سب کچھ قائم ہے۔ جب ادارے وضاحت فراہم نہیں کرتے یا اپنے کام کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ڈیٹا کو شیئر نہیں کرتے تو وہ عوام کا اعتماد کھونے کے خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔ -
رائے شماری اور نتائج میں فرق:
ایک اور سنگین نکتہ جو راہول گاندھی نے اٹھایا وہ تھا رائے شماری، ایکزٹ پولز اور اصل نتائج میں فرق۔ انہوں نے خاص طور پر ہریانہ اور مدھیہ پردیش کے انتخابات کا ذکر کیا جہاں نتائج اس سے مختلف تھے جو رائے شماری کے نتائج پیش کرتے تھے۔ -
رائے شماری اور نتائج میں اعتماد کی کمی:
جب رائے شماری اور اصل نتائج میں اس قدر بڑا فرق ہوتا ہے، تو عوام کو انتخابی عمل پر اعتماد ختم ہوجاتا ہے۔ یہ صرف سیاسی جماعتوں یا انفرادی انتخابات کے بارے میں نہیں، بلکہ خود جموکری عمل پر بنیادی اعتماد کا مسئلہ ہے۔ -
وزیراعظم کی کمزور اکثریت:
راہول گاندھی نے ایک اور سنگین الزام عائد کیا کہ موجودہ وزیراعظم کی پارلیمنٹ میں کمزور اکثریت کے باوجود وزیراعظم کے اقدامات ایک گہرے طریقے سے جموکری ذمہ داری کی خلاف ورزی کی عکاسی کرتے ہیں۔ -
بھارت کی تاریخ میں وزیراعظم کی کمزور اکثریت:
راہول گاندھی نے 1975 کی ایمرجنسی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت وزیراعظم اندرا گاندھی نے اکثریت کھونے کے باوجود طاقت کو مرکوز کرلیا تھا۔ یہ ایک سبق ہے کہ ایک مضبوط جموکری صرف اعداد و شمار کی طاقت پر نہیں بلکہ حکومت کی عوام کے سامنے جوابدہی پر قائم ہوتی ہے۔ -
جعلی ووٹرز اور ووٹوں کی چالبازی:
چوتھے نکتہ میں، راہول گاندھی نے جعلی ووٹروں کا ذکر کیا اور کہا کہ بنگلور سینٹرل کے مہادیوپورا اسمبلی حلقے میں 100,000 سے زائد ووٹوں میں چالبازی کی گئی۔ -
انتخابی کمیشن کا ردعمل:
انتخابی کمیشن نے ان الزامات کو “گمراہ کن اور بے بنیاد” قرار دیا اور کہا کہ 2024 کے انتخابات کے لیے ووٹر لسٹ کی تیاری کے دوران ابتدائی اور حتمی فہرستیں تمام سیاسی جماعتوں بشمول کانگریس کے ساتھ شیئر کی گئی تھیں اور ان پر اعتراضات اٹھانے کا عمل بھی کھلا تھا۔ -
انتخابی سالمیت کی ضرورت:
انتخابی چالبازی اور دھوکہ دہی ایک نئی بات نہیں ہے۔ دہائیوں سے بھارت میں انتخابی نتائج کی دھاندلی، جعلی ووٹر کی رجسٹریشن اور ووٹ خریدنے کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ اس طرح کی کارروائیاں نہ صرف انتخابی نتائج کو مسخ کرتی ہیں بلکہ عوام کا جموکری عمل پر اعتماد بھی تباہ کر دیتی ہیں۔ -
انتخابی کمیشن اور ڈیٹا شفافیت:
آخرکار، راہول گاندھی نے انتخابی کمیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ووٹر ڈیٹا کو الیکٹرانک فارمیٹ میں جاری نہ کرنا ان کے لیے ایک بڑی کمی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈیٹا الیکٹرانک طور پر دستیاب ہو، تو دھوکہ دہی اور چالبازی فوراً ظاہر ہو جائے گی۔
