
مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات: مدھیہ پردیش میں کانگریس کی حکومت آتے ہی سب سے پہلے ذات پات کی مردم شماری ہوگی: راہل گاندھی
ستنا، 10 نومبر (ہ س)۔ کانگریس کے سابق قومی صدر راہل گاندھی نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں حکومت ایم ایل اے نہیں بلکہ افسران چلاتے ہیں۔ یہاں بجٹ کے تمام فیصلے 53 افسران لیتے ہیں۔ ان 53 میں سے صرف ایک افسر او بی سی ہے اور مودی جی کہتے ہیں کہ ایم پی میں او بی سی کی حکومت ہے۔ آپ سے جھوٹ بولا جا رہا ہے، یہ کیسی او بی سی حکومت ہے؟ اسی لیے مودی کہتے ہیں کہ ملک میں صرف غریب ذات ہے۔ او بی سی زمرہ کی شراکت 0.3 فیصد ہے۔ مودی اس چیز کو چھپانا چاہتے ہیں۔ اس لیے وہ کسی تقریر میں ذات پات کی مردم شماری کی بات نہیں کرتے۔ ایم پی میں کانگریس کی حکومت آتے ہی سب سے پہلے ذات پات کی مردم شماری ہمارا پہلا قدم ہوگا۔
راہل گاندھی جمعہ کو ستنا میں ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب دہلی میں حکومت آنے پر نیشنل کاسٹ سینسس ہوگا۔ ذات پات کی مردم شماری ملک کا ایکسرے ہے۔ اس کے بعد ہر قبائلی، دلت، جنرل اور او بی سی کیٹیگری کو معلوم ہو جائے گا کہ میری آبادی کیا ہے اور میری شراکت کیا ہونی چاہیے۔ جب تک ذات پات کی مردم شماری نہیں ہوتی، پسماندہ ذاتوں کو حصہ نہیں ملے گا۔ یہ انقلابی کام ہے۔ اس سے ملک بدل جائے گا۔
راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک غریب کی جیب میں پیسہ ڈالتی ہے اور ایک بڑے بڑے تاجروں کی جیبوں میں پیسہ دالتی ہے۔ کانگریس نے منریگا، بھوج کا ادھیکار (کھانے کا حق) دیا۔ بی جے پی نے نوٹ بندی، جی ایس ٹی دیا۔ کسانوں کے خلاف کالے قانون لائے گئے، یہی فرق ہے۔
انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش کی جو بنیاد تھی، اس کو بی جے پی نے اکھاڑ کر پھینک دیا ہے۔ بنیاد کسان ہیں، بنیاد مزدور، چھوٹے دکاندار، بے روزگار نوجوان، ان سب کو بی جے پی نے پچھلے 15 سالوں میں تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے چھتیس گڑھ کی بھوپیش حکومت کی تعریف کرکی۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں کسانوں کو ان کی فصلوں کی صحیح قیمت نہیں ملتی اور انہیں قرض لینا پڑتا ہے۔ یہاں 18 ہزار کسان خودکشی کر چکے ہیں۔
راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی اڈانی کو پیسے دیتی ہے۔ اڈانی اس رقم کو بیرون ملک خرچ کرتا ہے۔ اڈانی امریکہ، دبئی اور جاپان میں جاکر مکان خریدتا ہے۔ آپ کا جی ایس ٹی پیسہ اڈانی کی جیب میں جاتا ہے اور باہر خرچ ہوتا ہے۔ اگر ہم پیسے دیتے ہیں تو کسان ایک چھوٹی سی دکان پر جا کر مال خریدتا ہے۔ جیسے ہی کسان اور مزدور دکانوں پر جا کر سامان خریدتے ہیں، معیشت شروع ہو جاتی ہے۔ مدھیہ پردیش میں کسان، مزدور اور چھوٹے تاجر خوفزدہ ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ملک میں ایک ہی غریب ذات ہے۔ ملک کی ذاتیں ان کے ذہنوں سے غائب ہوگئیں کیونکہ میں نے ذات پات کی مردم شماری کی بات کی تھی۔ جس دن سے میں نے او بی سی، دلت، قبائلی آبادی کی بات کی، مودی کہہ رہے ہیں کہ راہل جی ملک میں کوئی ذات نہیں ہے۔ ذات ختم ہوگئی ہے۔
ستنا میں جلسہ کے بعد راہل گاندھی بڑوانی کے راج پور پہنچے۔ یہاں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر حملہ کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ مرکزی وزیر نریندر سنگھ تومر کے بیٹے کا ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد وزیر اعظم اور ای ڈی نے کارروائی کیوں نہیں کی؟ انہوں نے شیوراج حکومت پر 50 فیصد کمیشن لینے کا بھی الزام لگایا۔
انہوں نے کہا کہ میں نے راستے میں لاکھوں نوجوانوں سے بات کی۔ راستے میں جب بھی میں نے کسی سے پوچھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں تو کہنے لگے کہ میں بے روزگار ہوں۔ یہاں بھی بہت سے نوجوان بے روزگار ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شیوراج چوہان اور نریندر مودی کی حکومت نوجوانوں کے لیے کیا کرتی ہے۔ مدھیہ پردیش میں بے روزگاری کیوں ہے؟ کیونکہ ایم پی حکومت اور مرکزی حکومت سرمایہ داروں کی مدد کرتی ہے۔ چھوٹے دکاندار اور تاجر ہی روزگار فراہم کرتے ہیں۔ لیکن جی ایس ٹی اور نوٹ بندی کی وجہ سے بہت سے کاروبار بند ہو گئے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ نوجوان بے روزگار ہیں۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
