بنگلہ دیش
سے چھاپ کر لائے گئے نوٹ چار ریاستوں میں تقصیم
ممبئی، 26 جولائی (ہ س)۔
کولہاپور کے گدھالنگم پولیس اسٹیشن نے جعلی
کرنسی کے ایک بڑے نیٹ ورک کو بے نقاب کرتے ہوئے 10 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جن پر
الزام ہے کہ وہ بنگلہ دیش میں چھاپے گئے جعلی نوٹوں کو بھارت کے مختلف علاقوں میں
تقسیم کر رہے تھے۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس گینگ کا نیٹ ورک مہاراشٹر، کرناٹک، اڈیشہ
اور مغربی بنگال میں سرگرم تھا، اور یہ نوٹ بنگلہ دیش سے پیکٹوں میں ہندوستانی
سرحد کے اندر ڈالے جاتے تھے جنہیں بھارتی اسمگلر اٹھا لیتے تھے۔
یہ
انکشاف اس وقت ہوا جب 17 جون کو آکاش رویندر رنگنے نامی نوجوان نے ایک اے ٹی ایم میں
500 روپے کے 35 جعلی نوٹ لوڈ کیے، جس کے بعد تفتیش آگے بڑھی اور دیگر نو ملزمان
دھر لیے گئے جن میں نتن کمبھار، اشوک کمبھار، دلیپ پاٹل، ستیش کنکن واڑی، بھرمو
کمبھار، اکشے کمبھار، اشوک کمبھار ٹونی، تاپس کمار پردھان اور ایک اور شخص شامل ہیں۔
پولیس کی
تفتیش سے پتہ چلا کہ اس پورے ریکیٹ کا ماسٹر مائنڈ اشوک کمبھار ہے، جو ماضی میں بھی
جعلی کرنسی کیس میں جیل جا چکا ہے۔ جیل میں ہی اس نے اس دھندے کا نیا طریقہ سیکھا
اور رہائی کے بعد دوبارہ سرگرم ہو گیا۔ سرحد پار سے نوٹ پارسل کے طور پر پھینکے
جاتے تھے اور انہیں ملک کے اندر بنگلورو سمیت کئی شہروں میں بھیجا جاتا تھا۔
تاپس
کمار پردھان اس پورے نیٹ ورک کی نگرانی کر رہا تھا۔ اس وجہ سے پولیس نے چار ریاستوں
میں کارروائیاں کیں اور مذکورہ ملزمان کو گرفتار کیا۔ تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا
کہ ایک لاکھ روپے کے جعلی نوٹوں کو بازار میں جاری کرنے پر ملزم کو 60 ہزار روپے
ملتے تھے جن میں سے 40 ہزار جعلی نوٹ فراہم کرنے والے کو دیے جاتے تھے اور 20 ہزار
تقسیم کرنے والوں کے پاس رہتے تھے۔
اس گروہ
کی زیادہ تر لین دین آن لائن کی جاتی تھی۔ اب تک کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ
ان 10 ملزمان نے 16.88 لاکھ روپے کی آن لائن ٹرانزیکشن کی ہے اور تقریباً 35 لاکھ
روپے کے جعلی نوٹ بازار میں پھیلائے جا چکے ہیں۔ اس کیس کی تفتیش انسپکٹر اجے
سندھکر کی سربراہی میں کی جا رہی ہے، جن کی ٹیم میں جوائنٹ انسپکٹر ساگر پاٹل، سب
انسپکٹر رمیش مورے، پولیس اہلکار رامداس کلیدار، دادو کھوت، ارون پاٹل، یوراج پاٹل
اور پرشانت شیوالے شامل ہیں۔
ہندوستھان
سماچار
——————–
ہندوستان سماچار / خان این اے
