سپریم کورٹ آف انڈیا نے نئی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت تین زبانوں کے فارمولے کو تمل ناڈو، کیرالہ اور مغربی بنگال میں نافذ کرنے کے لیے رہنما خطوط جاری کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ بی جے پی لیڈر اور وکیل جی ایس منی کی جانب سے دائر اس عرضی میں دلیل دی گئی تھی کہ نئی پالیسی کو لاگو نہ کرنا عوامی مفاد کے خلاف ہے اور یہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ تاہم، عدالت نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی ریاست کو اس پالیسی کو نافذ کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔
BulletsIn
-
سپریم کورٹ نے نئی تعلیمی پالیسی کے تحت تین زبانوں کے فارمولے پر عملدرآمد کے لیے رہنما خطوط جاری کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
-
یہ عرضی بی جے پی لیڈر اور وکیل جی ایس منی کی طرف سے دائر کی گئی تھی۔
-
عرضی میں کہا گیا تھا کہ تمل ناڈو، کیرالہ اور مغربی بنگال نے نئی تعلیمی پالیسی کو لاگو نہیں کیا ہے۔
-
درخواست گزار کے مطابق، ان ریاستوں میں پالیسی کو نافذ نہ کرنا عوامی مفاد کے خلاف ہے۔
-
عدالت نے کہا کہ وہ کسی ریاست کو نئی تعلیمی پالیسی نافذ کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔
-
عرضی میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ مرکز ریاستوں کو رہنما خطوط جاری کرے تاکہ وہ پالیسی نافذ کریں۔
-
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت کی پالیسیاں اور اسکیمیں تمام ریاستوں پر لاگو ہوتی ہیں۔
-
جی ایس منی نے کہا کہ ریاستی حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ مرکزی پالیسیوں کو نافذ کریں۔
-
عرضی میں دعویٰ کیا گیا کہ مفت تعلیم ایک بنیادی حق ہے جسے آئین فراہم کرتا ہے۔
-
ریاستوں کی جانب سے پالیسی قبول نہ کرنے کو بچوں کے مفت تعلیم کے حق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
